VisualDhikr|Collections

Sahih al-Bukhari

Oaths and Vows

Book 83 · 84 hadith

Sahih al-Bukhari 83:1sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ لَمْ يَكُنْ يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ قَطُّ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ وَقَالَ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي‏.‏

Narrated `Aisha:Abu Bakr As-Siddiq had never broken his oaths till Allah revealed the expiation for the oaths. Then he said, "If I take an oath to do something and later on I find something else better than the first one, then I do what is better and make expiation for my oath

ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ اتارا۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔

Sahih al-Bukhari 83:2sahih

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdur-Rahman bin Samura:The Prophet (ﷺ) said, "O `Abdur-Rahman bin Samura! Do not seek to be a ruler, because if you are given authority for it, then you will be held responsible for it, but if you are given it without asking for it, then you will be helped in it (by Allah): and whenever you take an oath to do something and later you find that something else is better than the first, then do the better one and make expiation for your oath

ہم سے ابونعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا ہم سے امام حسن بصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا، تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔

Sahih al-Bukhari 83:3sahih

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ، ثُمَّ أُتِيَ بِثَلاَثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَحَمَلَنَا عَلَيْهَا فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا أَوْ قَالَ بَعْضُنَا وَاللَّهِ لاَ يُبَارَكُ لَنَا، أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا، فَارْجِعُوا بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنُذَكِّرُهُ، فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Musa:I went to the Prophet (ﷺ) along with a group of Al-Ash`ariyin in order to request him to provide us with mounts. He said, "By Allah, I will not provide you with mounts and I haven't got anything to mount you on." Then we stayed there as long as Allah wished us to stay, and then three very nice looking she-camels were brought to him and he made us ride them. When we left, we, or some of us, said, "By Allah, we will not be blessed, as we came to the Prophet (ﷺ) asking him for mounts, and he swore that he would not give us any mounts but then he did give us. So let us go back to the Prophet (ﷺ) and remind him (of his oath)." When we returned to him (and reminded him of the fact), he said, "I did not give you mounts, but it is Allah Who gave you. By Allah, Allah willing, if I ever take an oath to do something and then I find something else than the first, I will make expiation for my oath and do the thing which is better (or do something which is better and give the expiation for my oath)

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔

Sahih al-Bukhari 83:4sahih

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "We (Muslims) are the last in the world, but will be foremost on the Day of Resurrection

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے ہمام بن منبہ نے بیان کیا کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔“

Sahih al-Bukhari 83:5sahih

فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَاللَّهِ لأَنْ يَلِجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏

Allah's Messenger (ﷺ) also said:"By Allah, if anyone of you insists on fulfilling an oath by which he may harm his family, he commits a greater sin in Allah's sight than that of dissolving his oath and making expiation for it

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ( بسا اوقات ) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ ( قسم توڑ کر ) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔

Sahih al-Bukhari 83:6sahih

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ فَهْوَ أَعْظَمُ إِثْمًا، لِيَبَرَّ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي الْكَفَّارَةَ‏.‏

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Anyone who takes an oath through which his family may be harmed, and insists on keeping it, he surely commits a sin greater (than that of dissolving his oath). He should rather compensate for that oath by making expiation

مجھ سے اسحاق یعنی ابن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“

Sahih al-Bukhari 83:7sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ، فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) sent an army detachment and made Usama bin Zaid its commander. Some people criticized (spoke badly of) Usama's leadership. So Allah's Messenger (ﷺ) got up saying, "If you people are criticizing Usama's leadership, you have already criticized the leadership of his father before. But Waaimullah (i.e., By Allah), he (i.e. Zaid) deserved the leadership, and he was one of the most beloved persons to me; and now this (his son Usama) is one of the dearest persons to me after him." (See Hadith No. 765, Vol)

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اگر تم لوگ اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد زید کے امیر بنائے جانے پر بھی اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! «وايم الله» زید امیر بنائے جانے کے قابل تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( اسامہ ) ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔

Sahih al-Bukhari 83:8sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Umar:The oath of the Prophet (ﷺ) used to be: "No, by Him who turns the hearts

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے اور ان سے سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم بس اتنی تھی کہ نہیں! دلوں کے پھیرنے والے اللہ کی قسم۔

Sahih al-Bukhari 83:9sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Jabir bin Samura:The Prophet (ﷺ) said, "If Caesar is ruined, there will be no Caesar after him; and if Khosrau is ruined, there will be no Khosrau, after him; and, by Him in Whose Hand my soul is, surely you will spend their treasures in Allah's Cause

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“

Sahih al-Bukhari 83:10sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Khosrau is ruined, there will be no Khosrau after him; and if Caesar is ruined, there will be no Caesar after him. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, surely you will spend their treasures in Allah's Cause

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کسریٰ ( بادشاہ ایران ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور جب قیصر ( بادشاہ روم ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“

Sahih al-Bukhari 83:11sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "O followers of Muhammad! By Allah, if you knew what I know, you would weep much and laugh little

مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے مت محمد! واللہ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔“

Sahih al-Bukhari 83:12sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ، زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ إِلاَّ مِنْ نَفْسِي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ فَإِنَّهُ الآنَ وَاللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ نَفْسِي‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الآنَ يَا عُمَرُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin Hisham:We were with the Prophet (ﷺ) and he was holding the hand of `Umar bin Al-Khattab. `Umar said to Him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You are dearer to me than everything except my own self." The Prophet (ﷺ) said, "No, by Him in Whose Hand my soul is, (you will not have complete faith) till I am dearer to you than your own self." Then `Umar said to him, "However, now, by Allah, you are dearer to me than my own self." The Prophet (ﷺ) said, "Now, O `Umar, (now you are a believer)

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا میری اپنی جان کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ( ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، عمر! اب تیرا ایمان پورا ہوا۔

Sahih al-Bukhari 83:13sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ وَهْوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَكَلَّمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ـ قَالَ مَالِكٌ وَالْعَسِيفُ الأَجِيرُ ـ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ ‏"‏‏.‏ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأُمِرَ أُنَيْسٌ الأَسْلَمِيُّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا‏.‏

Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid:Two men had a dispute in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). One of them said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Judge between us according to Allah's Laws." The other who was wiser, said, "Yes, O Allah's Apostle! Judge between us according to Allah's Laws and allow me to speak. The Prophet (ﷺ) said, "Speak." He said, "My son was a laborer serving this (person) and he committed illegal sexual intercourse with his wife, The people said that my son is to be stoned to death, but I ransomed him with one-hundred sheep and a slave girl. Then I asked the learned people, who informed me that my son should receive one hundred lashes and will be exiled for one year, and stoning will be the lot for the man's wife." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Indeed, by Him in Whose Hand my soul is, I will judge between you according to Allah's Laws: As for your sheep and slave girl, they are to be returned to you." Then he scourged his son one hundred lashes and exiled him for one year. Then Unais Al- Aslami was ordered to go to the wife of the second man, and if she confessed (the crime), then stone her to death. She did confess, so he stoned her to death

Sahih al-Bukhari 83:14sahih

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَغَطَفَانَ وَأَسَدٍ، خَابُوا وَخَسِرُوا ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Bakra:The Prophet (ﷺ) said, "Do you think if the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina and Juhaina are better than the tribes of Tamim, 'Amir bin Sa'sa'a, Ghatfan and Asad, they (the second group) are despairing and losing?" They (the Prophet's companions) said, "Yes, (they are)." He said, "By Him in Whose Hand my soul is, they (the first group) are better than them (the second group)

مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بھلا بتلاؤ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں بیشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ( وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا ) ان ( تمیم وغیرہ ) سے بہتر ہیں۔

Sahih al-Bukhari 83:15sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ عَامِلاً فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي‏.‏ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لاَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ، فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي‏.‏ أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ‏.‏ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلُوهُ‏.‏

Narrated Abu Humaid As-Sa`idi:Allah's Messenger (ﷺ) employed an employee (to collect Zakat). The employee returned after completing his job and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This (amount of Zakat) is for you, and this (other amount) was given to me as a present." The Prophet (ﷺ) said to him, "Why didn't you stay at your father's or mother's house and see if you would be given presents or not?" Then Allah's Messenger (ﷺ) got up in the evening after the prayer, and having testified that none has the right to be worshipped but Allah and praised and glorified Allah as He deserved, he said, "Now then ! What about an employee whom we employ and then he comes and says, 'This amount (of Zakat) is for you, and this (amount) was given to me as a present'? Why didn't he stay at the house of his father and mother to see if he would be given presents or not? By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, none of you will steal anything of it (i.e. Zakat) but will bring it by carrying it over his neck on the Day of Resurrection. If it has been a camel, he will bring it (over his neck) while it will be grunting, and if it has been a cow, he will bring it (over his neck), while it will be mooing; and if it has been a sheep, he will bring it (over his neck) while it will be bleeding." The Prophet (ﷺ) added, "I have preached you (Allah's Message)." Abu Humaid said, "Then Allah's Messenger (ﷺ) raised his hands so high that we saw the whiteness of his armpits

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ ثقفی نے خبر دی، نہیں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر کیا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں۔ ( جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے ) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو۔

Sahih al-Bukhari 83:16sahih

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَام ٌ ـ هُوَ ابْنُ يُوسُفَ ـ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:Abu-l-Qasim (the Prophet) said, "By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if you know that which I know, you would weep much and laugh little

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم بھی آخرت کی وہ مشکلات جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔“

Sahih al-Bukhari 83:17sahih

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ‏"‏ هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ‏"‏ قُلْتُ مَا شَأْنِي أَيُرَى فِيَّ شَىْءٌ مَا شَأْنِي فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَهْوَ يَقُولُ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ، وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقُلْتُ مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الأَكْثَرُونَ أَمْوَالاً، إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Dhar:I reached him (the Prophet (ﷺ) ) while in the shade of the Ka`ba; he was saying, "They are the losers, by the Lord of the Ka`ba! They are the losers, by the Lord of the Ka`ba!" I said (to myself ), "What is wrong with me? Is anything improper detected in me? What is wrong with me? Then I sat beside him and he kept on saying his statement. I could not remain quiet, and Allah knows in what sorrowful state I was at that time. So I said, ' Who are they (the losers)? Let My father and mother be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "They are the wealthy people, except the one who does like this and like this and like this (i.e., spends of his wealth in Allah's Cause)

ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے معرور نے، ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میری حالت کیسی ہے، کیا مجھ میں ( بھی ) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے؟ میری حالت کیسی ہے؟ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی۔ میں نے پھر عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے۔ لیکن اس سے وہ مستثنیٰ ہیں۔ جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح ( یعنی دائیں اور بائیں بےدریغ مستحقین پر ) اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو گا۔

Sahih al-Bukhari 83:18sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ سُلَيْمَانُ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a halfman. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوتے۔“

Sahih al-Bukhari 83:19sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ، وَيَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهَا وَلِينِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا ‏"‏‏.‏ لَمْ يَقُلْ شُعْبَةُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Al-Bara 'bin `Azib:A piece of silken cloth was given to the Prophet (ﷺ) as a present and the people handed it over amongst themselves and were astonished at its beauty and softness. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Are you astonished at it?" They said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "By Him in Whose Hand my soul is, the handkerchiefs of Sa`d in Paradise are better than it

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“ کا ذکر نہیں کیا۔

Sahih al-Bukhari 83:20sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ أَخْبَاءٍ ـ أَوْ خِبَاءٍ ـ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ ـ أَوْ خِبَائِكَ، شَكَّ يَحْيَى ـ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ أَهْلُ أَخْبَاءٍ ـ أَوْ خِبَاءٍ ـ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ أَوْ خِبَائِكَ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَىَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha:Hind bint `Utba bin Rabi`a said, "O Allah's Apostle! (Before I embraced Islam), there was no family on the surface of the earth, I wish to have degraded more than I did your family. But today there is no family whom I wish to have honored more than I did yours." Allah's Messenger (ﷺ) said, "I thought similarly, by Him in Whose Hand Muhammad's soul is!" Hind said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (My husband) Abu Sufyan is a miser. Is it sinful of me to feed my children from his property?" The Prophet said, "No, unless you take it for your needs what is just and reasonable

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماں ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ساری زمین پر جتنے ڈیرے والے ہیں ( یعنی عرب لوگ جو اکثر ڈیروں اور خیموں میں رہا کرتے تھے ) میں کسی کا ذلیل و خوار ہونا مجھ کو اتنا پسند نہیں تھا جتنا آپ کا۔ یحییٰ بن بکیر راوی کو شک ہے ( کہ ڈیرے کا لفظ بہ صیغہ مفرد کہا یا بہ صیغہ جمع ) اب کوئی ڈیرہ والا یا ڈیرے والے ان کو عزت اور آبرو حاصل ہونا مجھ کو آپ کے ڈیرے والوں سے زیادہ پسند نہیں ہے ( یعنی اب میں آپ کی اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ خیرخواہ ہوں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی کیا ہے تو اور بھی زیادہ خیرخواہ بنے گی۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے۔ پھر ہند کہنے لگی یا رسول اللہ! ابوسفیان تو ایک بخیل آدمی ہے مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے ( اپنے بال بچوں کو کھلاؤں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اگر تو دستور کے موافق خرچ کرے۔

Sahih al-Bukhari 83:21sahih

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ يَمَانٍ إِذْ قَالَ لأَصْحَابِهِ ‏"‏ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin Masud:While Allah's Messenger (ﷺ) was sitting, reclining his back against a Yemenite leather tent he said to his companions, "Will you be pleased to be one-fourth of the people of Paradise?" They said, 'Yes.' He said "Won't you be pleased to be one-third of the people of Paradise" They said, "Yes." He said, "By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, I hope that you will be one-half of the people of Paradise

مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ میں نے عمرو بن میمون سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو؟ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھے تم ہی ہو گے۔

Sahih al-Bukhari 83:22sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:A man heard another man reciting: Surat-ul-Ikhlas (The Unity) 'Say: He is Allah, the One (112) and he was repeating it. The next morning he came to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned the whole story to him as if he regarded the recitation of that Sura as insufficient On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my soul is! That (Sura No. 112) equals one-third of the Qur'an

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے سنا کہ ایک دوسرے صحابی سورۃ قل ھو اللہ باربار پڑھتے ہیں جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، وہ صحابی اس سورت کو کم سمجھتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔

Sahih al-Bukhari 83:23sahih

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Perform the bowing and the prostration properly (with peace of mind), for, by Him in Whose Hand my soul is, I see you from behind my back when you bow and when you prostrate

مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ رکوع اور سجدہ پورے طور پر ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنی کمر کے پیچھے سے تم کو دیکھ لیتا ہوں جب رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔

Sahih al-Bukhari 83:24sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَعَهَا أَوْلاَدٌ لَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:An Ansari woman came to the Prophet (ﷺ) in the company of her children, and the Prophet (ﷺ) said to her, "By Him in Whose Hand my soul is, you are the most beloved people to me!" And he repeated the statement thrice

ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ہشام بن زید سے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ انصاری خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ بھی مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز ہو۔ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے۔

Sahih al-Bukhari 83:25sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهْوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَصْمُتْ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) met `Umar bin Al-Khattab while the latter was going with a group of camel-riders, and he was swearing by his father. The Prophet (ﷺ) said, "Lo! Allah forbids you to swear by your fathers, so whoever has to take an oath, he should swear by Allah or keep quiet

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہے اسے ( بشرط صدق ) چاہئے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔

Sahih al-Bukhari 83:26sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا‏.‏ قَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏أَوْ أَثَرَةٍ مِنْ عِلْمٍ‏}‏ يَأْثُرُ عِلْمًا‏.‏ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ‏.‏

Narrated Ibn `Umar:I heard `Umar saying, "Allah's Messenger (ﷺ) said to me, 'Allah forbids you to swear by your fathers." `Umar said, "By Allah! Since I heard that from the Prophet (ﷺ) , I have not taken such an oath, neither intentionally, nor by reporting the oath of someone else

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ! پھر میں نے ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔ مجاہد نے کہا سورۃ الاحقاف میں جو «أثرة من علم‏» ہے اس کا معنی یہ ہے کہ علم کی کوئی بات نقل کرتا ہو۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل اور محمد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا اور سفیان بن عیینہ اور معمر نے اس کو زہری سے روایت کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو غیر اللہ کی قسم کھاتے سنا۔ روایت میں لفظ «اثارة» کی تفسیر «اثرا» کی مناسبت سے بیان کر دی کیونکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے۔

Sahih al-Bukhari 83:27sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not swear by your fathers

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ۔“

Sahih al-Bukhari 83:28sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَىِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَى الطَّعَامِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ آكُلَهُ‏.‏ فَقَالَ قُمْ فَلأُحَدِّثَنَّكَ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ‏"‏‏.‏ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا ثُمَّ حَمَلَنَا، تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا أَتَيْنَاكَ لِتَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، وَمَا عِنْدَكَ مَا تَحْمِلُنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَاللَّهِ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ‏"‏‏.‏

Narrated Zahdam:There was a relation of love and brotherhood between this tribe of Jarm and Al-Ash`ariyin. Once we were with Abu Musa Al-Ash`ari, and then a meal containing chicken was brought to Abu Musa, and there was present, a man from the tribe of Taimillah who was of red complexion as if he were from non-Arab freed slaves. Abu Musa invited him to the meal. He said, "I have seen chickens eating dirty things, so I deemed it filthy and took an oath that I would never eat chicken." On that, Abu Musa said, "Get up, I will narrate to you about that. Once a group of the Ash`ariyin and I went to Allah's Messenger (ﷺ) and asked him to provide us with mounts; he said, 'By Allah, I will never give you any mounts nor do I have anything to mount you on.' Then a few camels of war booty were brought to Allah's Messenger (ﷺ) , and he asked about us, saying, 'Where are the Ash-'ariyin?' He then ordered five nice camels to be given to us, and when we had departed, we said, 'What have we done? Allah's Messenger (ﷺ) had taken the oath not to give us any mounts, and that he had nothing to mount us on, and later he gave us that we might ride? Did we take advantage of the fact that Allah's Messenger (ﷺ) had forgotten his oath? By Allah, we will never succeed.' So we went back to him and said to him, 'We came to you to give us mounts, and you took an oath that you would not give us any mounts and that you had nothing to mount us on.' On that he said, 'I did not provide you with mounts, but Allah did. By Allah, if I take an oath to do something, and then find something else better than it, I do that which is better and make expiation for the dissolution of the oath

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تیمی نے اور ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ان قبائل، جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہم کو سوار کرا دیا۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا۔ قسم اللہ کی ہم اس حرکت کے بعد کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے تفصیل بالا کو عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے تاکہ آپ ہم کو سواری پر سوار کرا دیں پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کرائیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔

Sahih al-Bukhari 83:29sahih

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى‏.‏ فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ‏.‏ فَلْيَتَصَدَّقْ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever swears saying in his oath. 'By Al-Lat and Al-`Uzza,' should say, 'None has the right to be worshipped but Allah; and whoever says to his friend, 'Come, let me gamble with you,' should give something in charity

مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو اسے پھر کلمہ «لا إله إلا الله» کہہ لینا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ ( اس کے کفارہ میں ) صدقہ کرے۔

Sahih al-Bukhari 83:30sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ يَلْبَسُهُ، فَيَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتِمَ وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ ‏"‏‏.‏ فَرَمَى بِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ‏.‏

Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) had a gold ring made for himself, and he used to wear it with the stone towards the inner part of his hand. Consequently, the people had similar rings made for themselves. Afterwards the Prophet; sat on the pulpit and took it off, saying, "I used to wear this ring and keep its stone towards the palm of my hand." He then threw it away and said, "By Allah, I will never wear it." Therefore all the people threw away their rings as well

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوا لیں اس کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اپنی انگوٹھی اتار دی اور فرمایا کہ میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں۔

Sahih al-Bukhari 83:31sahih

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ مِلَّةِ الإِسْلاَمِ فَهْوَ كَمَا قَالَ ـ قَالَ ـ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهْوَ كَقَتْلِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Thabit bin Ad-Dahhak:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever swears by a religion other than Islam, is, as he says; and whoever commits suicide with something, will be punished with the same thing in the (Hell) Fire; and cursing a believer is like murdering him; and whoever accuses a believer of disbelief, then it is as if he had killed him

ہم سے معلی بن اسعد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے روایت کیا، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ثابت بن ضحاک سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے۔“

Sahih al-Bukhari 83:32sahih

وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ ثَلاَثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ مَلَكًا فَأَتَى الأَبْرَصَ فَقَالَ تَقَطَّعَتْ بِي الْحِبَالُ، فَلاَ بَلاَغَ لِي إِلاَّ بِاللَّهِ، ثُمَّ بِكَ ‏"‏‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ‏.‏

Narrated Abu Hurairah that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "Allah decided to test three people from Bani Isra'il. So, He sent an angel who came first to the leper and said, '(I am a traveller) who has run short of all means of living, and I have nobody to help me except Allah, and then with your help.'" Abu Hurairah then mentioned the complete narration

اور عمرو بن عاصم نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن عبداللہ نے، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانا چاہا ( پھر سارا قصہ بیان کیا ) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میری روزی کے سارے ذریعے کٹ گئے ہیں اب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا ( یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری ) پھر پوری حدیث کو ذکر کیا۔

Sahih al-Bukhari 83:33sahih

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ‏.‏

Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) ordered us to help others to fulfill the oaths

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے اشعث بن ابی الشعثاء سے، انہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، انہوں نے براء بن عازب سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے اشعث سے، انہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھانے والے کو سچا کرنے کا حکم فرمایا۔

Sahih al-Bukhari 83:34sahih

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أُسَامَةَ، أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ وَأُبَىٌّ أَنَّ ابْنِي قَدِ احْتُضِرَ فَاشْهَدْنَا‏.‏ فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلاَمَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَتَحْتَسِبْ ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَعَدَ رُفِعَ إِلَيْهِ، فَأَقْعَدَهُ فِي حَجْرِهِ وَنَفْسُ الصَّبِيِّ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هَذَا رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.‏

Narrated Usama:Once a daughter of Allah's Messenger (ﷺ) sent a message to Allah's Messenger (ﷺ) while Usama, Sa`d, and my father or Ubai were (sitting there) with him. She said, (in the message); My child is going to die; please come to us." Allah's Messenger (ﷺ) returned the messenger and told him to convey his greetings to her, and say, "Whatever Allah takes, is for Him and whatever He gives is for Him, and everything with Him has a limited fixed term (in this world): so she should be patient and hope for Allah's reward." Then she again sent for him swearing that he should come; so The Prophet (ﷺ) got up, and so did we. When he sat there (at the house of his daughter), the child was brought to him, and he took him into his lap while the child's breath was disturbed in his chest. The eyes of Allah's Messenger (ﷺ) started shedding tears. Sa`d said, "What is this, O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) said, "This is the mercy which Allah has lodged in the hearts of whoever He wants of His slaves, and verily Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others)

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم کو عاصم الاحول نے خبر دی، کہا میں نے ابوعثمان سے سنا، وہ اسامہ سے نقل کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب ) نے آپ کو بلا بھیجا اس وقت آپ کے پاس اسامہ بن زید اور سعد بن عبادہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے تھے۔ صاحبزادی صاحبہ نے کہلا بھیجا کہ ان کا بچہ مرنے کے قریب ہے آپ تشریف لائیے۔ آپ نے ان کے جواب میں یوں کہلا بھیجا میرا سلام کہو اور کہو سب اللہ کا مال ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے عنایت فرمایا اور ہر چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے، صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو۔ صاحبزادی صاحبہ نے قسم دے کر پھر کہلا بھیجا کہ نہیں آپ ضرور تشریف لائیے۔ اس وقت آپ اٹھے، ہم لوگ بھی ساتھ اٹھے جب آپ صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے اور وہاں جا کر بیٹھے تو بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لائے۔ آپ نے اسے گود میں بٹھا لیا وہ دم توڑ رہا تھا۔ یہ حال پرملال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے اور اللہ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے رحم رکھتا ہے یا یہ ہے کہ اللہ اپنے ان ہی بندوں پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔

Sahih al-Bukhari 83:35sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، تَمَسُّهُ النَّارُ، إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Any Muslim who has lost three of his children will not be touched by the Fire except that which will render Allah's oath fulfilled

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔“

Sahih al-Bukhari 83:36sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ، وَأَهْلِ النَّارِ كُلُّ جَوَّاظٍ عُتُلٍّ مُسْتَكْبِرٍ ‏"‏‏.‏

Narrated Haritha bin Wahb:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Shall I tell you of the people of Paradise? They comprise every poor humble person, and if he swears by Allah to do something, Allah will fulfill it; while the people of the fire comprise every violent, cruel arrogant person

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے، کہا میں نے حارثہ بن وہب سے سنا، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں، ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے ( اس کی قسم پوری کر دے ) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا، لڑاکا، مغرور، فسادی۔

Sahih al-Bukhari 83:37sahih

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ ‏ "‏ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَنْهَوْنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ أَنْ نَحْلِفَ بِالشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ‏.‏

Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) was asked, "Who are the best people?" He replied: The people of my generation, and then those who will follow (come after) them, and then those who will come after the later; after that there will come some people whose witness will precede their oaths and their oaths will go ahead of their witness." Ibrahim (a sub-narrator) said, "When we were young, our elder friends used to prohibit us from taking oaths by saying, 'I bear witness swearing by Allah, or by Allah's Covenant

ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا زمانہ، پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہمارے اساتذہ جب ہم کم عمر تھے تو ہمیں قسم کھانے سے منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں۔

Sahih al-Bukhari 83:38sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَوْ قَالَ أَخِيهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهُ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ‏}‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ فَمَرَّ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ قَالُوا لَهُ فَقَالَ الأَشْعَثُ نَزَلَتْ فِيَّ، وَفِي صَاحِبٍ لِي، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا‏.‏

Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever swears falsely in order to grab the property of a Muslim (or of his brother), Allah will be angry with him when he meets Him." Allah then revealed in confirmation of the above statement:--'Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their own oaths.' (3.77) Al-Ash'ath said, "This Verse was revealed regarding me and a companion of mine when we had a dispute about a well

Sahih al-Bukhari 83:39sahih

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ‏.‏ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "The Hell Fire will keep on saying: 'Are there anymore (people to come)?' Till the Lord of Power and Honor will put His Foot over it and then it will say, 'Qat! Qat! (sufficient! sufficient!) by Your Power and Honor. And its various sides will come close to each other (i.e., it will contract)

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔“ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا۔

Sahih al-Bukhari 83:40sahih

حَدَّثَنَا الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ـ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ‏.‏

Narrated Az-Zuhri:I heard `Urwa bin Az-Zubair, Sa`id bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin `Abdullah narrating from `Aisha, the wife of the Prophet, the story about the liars who said what they said about her and how Allah revealed her innocence afterwards. Each one of the above four narrators narrated to me a portion of her narration. (It was said in it), "The Prophet (ﷺ) stood up, saying, 'Is there anyone who can relieve me from `Abdullah bin Ubai?' On that, Usaid bin Hudair got up and said to Sa`d bin 'Ubada, La`Amrullahi (By the Eternity of Allah), we will kill him

ہم سے اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بات کے متعلق سنا کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! ( «لعمر الله» ) ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے ( مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے ) ۔

Sahih al-Bukhari 83:41sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ‏{‏لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ‏}‏ قَالَ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي قَوْلِهِ لاَ، وَاللَّهِ بَلَى وَاللَّهِ‏.‏

Narrated `Aisha:regarding: 'Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths...' (2.225) This Verse was revealed concerning such oath formulas as: 'No, by Allah!' and 'Yes, by Allah!' something against his oath due to forgetfulness should he make expiation?). And the Statement of Allah: 'And there is no blame on you if you make a mistake therein.' (33.5) And Allah said:-- '(Moses said to Khadir): Call me not to account for what I forgot

مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو‏» ”اللہ تعالیٰ تم سے لغو قسموں کے بارے میں پکڑ نہیں کرے گا۔“ راوی نے بیان کیا کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ آیت «لا،‏‏‏‏ والله بلى والله‏.‏» ( بے ساختہ جو قسمیں عادت بنا لی جاتی ہیں ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔

Sahih al-Bukhari 83:42sahih

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah forgives my followers those (evil deeds) their souls may whisper or suggest to them as long as they do not act (on it) or speak

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زرارہ بن اوفی نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان غلطیوں کو معاف کیا ہے جن کا صرف دل میں وسوسہ گزرے یا دل میں اس کے کرنے کی خواہش پیدا ہو، مگر اس کے مطابق عمل نہ ہو اور نہ بات کی ہو۔

Sahih al-Bukhari 83:43sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-As:While the Prophet (ﷺ) was delivering a sermon on the Day of Nahr (i.e., 10th Dhul-Hijja-Day of slaughtering the sacrifice), a man got up saying, "I thought, O Allah's Messenger (ﷺ), such-and-such a thing was to be done before such-and-such a thing." Another man got up, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! As regards these three (acts of Hajj), thought so-and-so." The Prophet (ﷺ) said, "Do, and there is no harm," concerning all those matters on that day. And so, on that day, whatever question he was asked, he said, "Do it, do it, and there is no harm therein

ہم سے عثمان بن الہیثم نے بیان کیا یا ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے عثمان بن الہیثم سے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا کہ میں نے ابن شہاب سے سنا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع میں ) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا ( اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا ) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ ( حلق، رمی اور نحر ) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو ( تقدیم و تاخیر کرنے میں ) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔

Sahih al-Bukhari 83:44sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ قَالَ آخَرُ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ قَالَ آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:A man said to the Prophet (while he was delivering a sermon on the Day of Nahr), "I have performed the Tawaf round the Ka`ba before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm (therein)." Another man said, "I had my head shaved before slaughtering (the sacrifice)." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm." A third said, "I have slaughtered (the sacrifice) before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔

Sahih al-Bukhari 83:45sahih

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ ‏"‏ وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏‏.‏ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ فَأَعْلِمْنِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ، سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:A man entered the mosque and started praying while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting somewhere in the mosque. Then (after finishing the prayer) the man came to the Prophet (ﷺ) and greeted him. The Prophet (ﷺ) said to him, "Go back and pray, for you have not prayed. The man went back, and having prayed, he came and greeted the Prophet. The Prophet (ﷺ) after returning his greetings said, "Go back and pray, for you did not pray." On the third time the man said, "(O Allah's Messenger (ﷺ)!) teach me (how to pray)." The Prophet said, "When you get up for the prayer, perform the ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu Akbar), and then recite of what you know of the Qur'an, and then bow, and remain in this state till you feel at rest in bowing, and then raise your head and stand straight; and then prostrate till you feel at rest in prostration, and then sit up till you feel at rest while sitting; and then prostrate again till you feel at rest in prostration; and then get up and stand straight, and do all this in all your prayers

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔

Sahih al-Bukhari 83:46sahih

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَقَالَ أَبِي أَبِي‏.‏ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةٌ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ‏.‏

Narrated `Aisha:When the pagans were defeated during the (first stage) of the battle of Uhud, Satan shouted, "O Allah's slaves! Beware of what is behind you!" So the front files of the Muslims attacked their own back files. Hudhaifa bin Al-Yaman looked and on seeing his father he shouted: "My father! My father!" By Allah! The people did not stop till they killed his father. Hudhaifa then said, "May Allah forgive you." `Urwa (the sub-narrator) added, "Hudhaifa continued asking Allah forgiveness for the killers of his father till he met Allah (till he died)

ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا ( مسلمانوں سے ) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے ( مسلمانوں ہی سے ) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔

Sahih al-Bukhari 83:47sahih

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفٌ، عَنْ خِلاَسٍ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهْوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "If somebody eats something forgetfully while he is fasting, then he should complete his fast, for Allah has made him eat and drink

مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے خلاص بن عمرو اور محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھا لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔“

Sahih al-Bukhari 83:48sahih

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، وَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Buhaina:Once Allah's Messenger (ﷺ) led us in prayer, and after finishing the first two rak`at, got up (instead of sitting for at-Tahiyyat) and then carried on with the prayer. When he had finished his prayer, the people were waiting for him to say Taslim, but before saying Tasiim, he said Takbir and prostrated; then he raised his head, and saying Takbir, he prostrated (SAHU) and then raised his head and finished his prayer with Taslim

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بجینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کر لی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔

Sahih al-Bukhari 83:49sahih

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ـ قَالَ مَنْصُورٌ لاَ أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ وَهِمَ أَمْ عَلْقَمَةُ ـ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لاَ يَدْرِي، زَادَ فِي صَلاَتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn Mas`ud:that Allah's Prophet led them in the Zuhr prayer and he offered either more or less rak`at, and it was said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ) ! Has the prayer been reduced, or have you forgotten?" He asked, "What is that?" They said, "You have prayed so many rak`at." So he performed with them two more prostrations and said, "These two prostrations are to be performed by the person who does not know whether he has prayed more or less (rak`at) in which case he should seek to follow what is right. And then complete the rest (of the prayer) and perform two extra prostrations

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا، کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے ( سہو کے ) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے۔

Sahih al-Bukhari 83:50sahih

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا‏}‏ قَالَ ‏"‏ كَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا ‏"‏‏.‏

Narrated Ubai bin Ka'b: that he heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "(Moses) said, 'Call me not to account for what I forget and be not hard upon me for my affair (with you)' (18.73) the first excuse of Moses was his forgetfulness

ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آیت «لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا‏» کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا۔