VisualDhikr|Collections

Sahih Muslim

The Book of Pilgrimage

Book 15 · 583 hadith

Sahih Muslim 15:1sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَحَدٌ لاَ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلاَ الْوَرْسُ ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that a person asked the Messenger of Allah (ﷺ) what a Muhrim should put on as dress. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said:Do not put on a shirt or a turban, or trousers or a cap, or leather stockings except one who does not find shoes; he may put on stockings but he should trim them below the ankles. And do not wear clothes to which saffron or wars is applied

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ احرام باندھنے والا کیسے کپڑے پہنے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : " نہ قمیص پہنو نہ عمامہ ، نہ شلوار ، نہ کوٹ ( ٹوپی جڑا لبادہ ) اور نہ موزے پہنو ، سوائے اس کے جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے پہن لے ، اور انھیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے ۔ اور ایسا کپڑا نہ پہنو جسے کچھ بھی زعفران یا ورس ( زرد چولہ ) لگا ہو ۔

Sahih Muslim 15:2sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلاَ الْعِمَامَةَ وَلاَ الْبُرْنُسَ وَلاَ السَّرَاوِيلَ وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلاَ زَعْفَرَانٌ وَلاَ الْخُفَّيْنِ إِلاَّ أَنْ لاَ يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏

Salim reported on the authority of his father ('Abdullah b. 'Umar) that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked what a Muhrim should wear, whereupon he said:A Muhrim should not wear a shirt, or a turban, or a cap, or trousers, or a cloth touched with wars or with saffron, nor (should he wear) stockings, but in case he does not find shoes, but (before wearing stockings) be should trim them (in such a way) that these should become lower than the ankles

حضرت سالم نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا ، احرام باندھنے والا کیسا لباس پہنے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " محرم نہ قمیص پہنے ، نہ عمامہ ، نہ ٹوپی جرا لبادہ ، نہ شلوار ، نہ ایسے کپڑے پہنے جسے ورس یا زعفرا ن لگاہو ، اور نہ موزے پہنے ، مگر جسے جوتے نہ ملیں تو ( وہ موزے پہن لے اور ) انھیں ( اوپر سے ) اتنا کاٹ ے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہوجائیں ۔

Sahih Muslim 15:3sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade the Muhrim to put on a cloth dyed in saffron or wars and he further said:One who does not find shoes (to wear) he may wear stockings, but (only) after trimming them below the ankles

عبداللہ بن دینار نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے والے کو زعفران یا ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا ، نیز فرمایا؛ " جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اورانھیں ٹخنوں کےنیچے تک کاٹ لے ۔

Sahih Muslim 15:4sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ ‏ "‏ السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْمُحْرِمَ ‏.‏

Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say as he was delivering an address: So far as the trousers are concerned, one who does not find lower garment, he may wear them; as also socks, he may wear them who does not find shoes. It concerns the Muhrim

حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے ، انھوں نے جابر بن زید سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " شلوار اس کے لئے ( جائز ) ہے جسے تہبند نہ ملے ، اور موزے اس کے لئے جسے جوتے میسر نہ ہو ، " یعنی احرام باندھنے والے کے لئے ۔

Sahih Muslim 15:5sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ‏.‏ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏

Amr b. Dinar narrated with the same chain of transmitters that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) delivering sermon at 'Arafat, and he made a mention of this hadith (as quoted above)

شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سندکے ساتھ بیان کی کہ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا ، پھر یہی حدیث سنائی ۔

Sahih Muslim 15:6sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ‏.‏ غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ ‏.‏

This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Dinar with the same chain of transmitters, but none of them (the narrators) made a mention that he (the Holy Prophet) was delivering address at 'Arafat except Shu'ba

ابن عینیہ ، ہشیم ، سفیان ثوری ، ابن جریج اور ایوب ( سختیانی ) ان تمام نے عمرو بن دینار سے مذکورہ سند کےساتھ روایت کی ، ان تمام میں سے اکیلے شعبہ کے علاوہ کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں خطبہ ارشادفرمارہے تھے ۔

Sahih Muslim 15:7sahih

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ ‏"‏ ‏.‏

Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who does not find shoes to wear may wear socks, and he who does not find lower garment to wear may put on trousers

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے ، اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے ۔

Sahih Muslim 15:8sahih

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ، بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ - أَوْ قَالَ أَثَرُ صُفْرَةٍ - فَقَالَ كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي قَالَ وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْوَحْىُ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ - قَالَ - فَقَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ قَالَ فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ - قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - كَغَطِيطِ الْبَكْرِ - قَالَ - فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ - أَوْ قَالَ أَثَرَ الْخَلُوقِ - وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ ‏"‏ ‏.‏

Ya'la b. Umayya reported on the authority of his father (Allah be pleased with them) that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) as he was at Ji'rana and he (the person) had been putting on a cloak which was perfumed, or he (the narrator) said:There was a trace of yellowness on it. He said (to the Holy Prophet): What do you command me to do during my Umra? (It was at this juncture) that the revelation came to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was covered with a cloth, and Ya'la said: Would that I see revelation coming to the Messenger of Allah (ﷺ). He (Hadrat 'Umar) said: Would it please you to see the Messenger of Allah (ﷺ) receiving the revelations 'Umar lifted a corner of the cloth and I looked at him and he was emitting a sound of snorting. He (the narrator) said: I thought it was the sound of a camel. When he was relieved of this he said: Where is he who asked about Umra? When the person came, the Prophet (ﷺ) said: Wash out the trace of yellowness, or he said: the trace of perfume and put off the cloak and do in your 'Umra what you do in your Hajj

ہمام نے کہا : ہمیں عطا ابن ابی رباح نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا ۔ ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ ( کے مقام ) پر تھے ، اس ( کے بدن ) پر جبہ تھا ، اس پر زعفران ملی خوشبو ( لگی ہوئی ) تھی ۔ یاکہا : زردی کا نشان تھا ۔ اس نے کہا : آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( اتنے میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرکپڑا تان دیا گیا ۔ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( اس عالم میں ) دیکھوں جب آپ پروحی اتر رہی ہو ۔ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ) ( عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کہنے لگے : کیاتمھیں پسند ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہوتو تم انھیں دیکھو؟ ( یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارا اٹھایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس لینے کی بھاری آواز آرہی تھی ۔ صفوان نے کہا : میرا گمان ہے انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ جس طرح جوان اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے ۔ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دو ر ہوئی ( تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عمرے کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ( پھر اس نے فرمایا : ) تم اپنے ( کپڑوں ) سے زردی ( زعفران ) کا نشان ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : خوشبو کا اثر ۔ ۔ دھو ڈالو ، اپنا جبہ اتار دو اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔

Sahih Muslim 15:9sahih

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ، يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ - يَعْنِي جُبَّةً - وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَىَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ ‏"‏ ‏.‏

Safwan b. Ya'la reported on the authority of his father (who said):A person came to the Messenger of Allah (ﷺ) as he was staying at Ji'rana and I (the narrator's father) was at that time in the apostle's (ﷺ) company and (the person) was donning a cloak having the marks of perfume on it, and he said: I am in a state of Ihram for the sake of Umra, and it (this cloak) is upon me and I am perfumed. The Apostle of Allah (ﷺ) said to him: What would you do in your Hajj? He said: I would take off the clothes and would wash from me this perfume. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: What you do in your Hajj do it in your Umra

عمرو بن دینار نے عطاء سے انھوں نے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، میں ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا ، اس ( کے بدن ) پر ٹکڑیوں والا ( لباس ) ، یعنی جبہ تھا وہ زعفران ملی خوشبوسے لت پت تھا ۔ اس نے کہا میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے ۔ اور میرے جسم پر یہ لباس ہے ۔ اور میں نے خوشبو بھی لگائی ہے ۔ ( کیایہ درست ہے؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے حج میں کیا کرتے؟ " اس نے کہا : میں یہ اپنے کپڑے اتار دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو ۔

Sahih Muslim 15:10sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - لَيْتَنِي أَرَى نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ فَجَاءَهُ الْوَحْىُ فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ ‏.‏ فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا ‏"‏ ‏.‏ فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ‏"‏ ‏.‏

Safwan b. Ya'la b. Umayya reported that Ya'la used to say to 'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him):Would that I see revelation descending upon the Messenger of Allah (ﷺ). (Once) when the Messenger of Allah (ﷺ) was in Ji'rana and there was a cloth which provided shade over him, and there were his Companions with him. 'Umar being one of them, there came a person with a cloak of wool on him daubed with perfume and he said: Messenger of Allah, what about the person who entered upon the state of Ihram with a cloak after daubing it with perfume? The Apostle of Allah (ﷺ) looked at him for a short while, and then became quiet, and revelation began descending upon him, and 'Umar gestured (with his hand) to Ya'la b. Umayya to come. Ya'la came and he entered his head (beneath the cloth and saw) the Messenger of Allah (ﷺ) with his face red, and breathing heavily. Then he felt relieved (of that burden) and he said: Where is the man who was just asking me about Umra? The man was searched for and he was brought, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: So far as the perfume is concerned, wash it three times, and remove the cloak too (as it was sewn) and do in 'Umra as you do in Hajj

۔ ابن جریج نے کہا : مجھے عطاء نے خبر دی کہ صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن امیہ نے انھیں خبر دی کہ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہاکرتے تھے : کاش!میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہورہی ہو ۔ ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سےسایہ کیاگیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے ۔ جن میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ۔ اس نے خوشبوسےلت پت جبہ پہنا ہواتھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیا ل ہے ۔ جس نےاچھی طرح خوشبولگاکر جبے میں عمرے کا احرام باندھاہے ۔ ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا ، پھرسکوت اختیار فرمایا تو ( اس اثناء میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوناشروع ہوگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہاتھ سے یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اشارہ کیا ، ادھرآؤ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور اپنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ۔ ادھر آؤ ، یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور پنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہورہاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر بھاری بھاری سانس لیتے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟ " آدمی کو تلاش کرکے حاضر کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے ۔ اسے تین مرتبہ دھو لو اور یہ جبہ ( لباس ) ، اسے اتار دو ، پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کرو جیسے تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔

Sahih Muslim 15:11sahih

وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ قَيْسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ، رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ ‏"‏ ‏.‏

Ya'la b. Umayya (Allah be pleased with him) reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) as he was staying at Ji'rana and he had put on Ihram for 'Umra and he had dyed his beard and his head with yellow colour and there was a cloak on him. He said:I put on Ihram for 'Umra and I am in this state as you see (with dyed beard and head and a cloak over me). He (the Holy Prophet) said: Take off the cloak and wash the yellowness and do in your 'Umra what you do in Hajj

قیس ، عطاء سے حدیث بیا ن کرتے ہیں ، وہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے ، وہ اپنے والد ( یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، وہ عمرے کااحرام باندھ کرتلبیہ کہہ چکا تھا ، اس نے اپنا سراور اپنی داڑھی کو زردرنگ سے رنگا ہواتھا ، اور اس ( کے جسم ) پر جبہ تھا ۔ اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میں اس حالت میں ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبہ اتار دوں ، اپنے آپ سے زرد رنگ کو دھو ڈالو اور جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی عمرے میں کرو ۔

Sahih Muslim 15:12sahih

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَفْعَلُ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ يُظِلُّهُ فَقُلْتُ لِعُمَرَ - رضى الله عنه - إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ ‏.‏ فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ - رضى الله عنه - بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلاً فِي حَجِّكَ ‏"‏ ‏.‏

Ya'la reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) that a person came to him with a cloak on him having the traces of scent. He said, Messenger of Allah, I put on Ihram for 'Umra: what should I do? He (the Holy Prophet) kept quiet and did not make him any reply. And 'Umar screened him and it was (usual) with 'Umar that when the revelation descended upon him, he provided him shade (with the help of a piece of cloth). I (the person who came to the Holy Prophet) said: I said to 'Umar I wish to project my head into the cloth (to see how the Prophet receives revelation). So when the revelation began to descend upon him 'Umar wrapped him (the Holy Prophet) with cloth I came to him and projected my head with him into the cloth, and saw him (the Holy Prophet) (receiving the revelation). When he (the Holy Prophet) was relieved (of its burden), he said: Where is the inquirer who was just inquiring about 'Umra? That man came to him. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: Take off the cloak from (your body) and wash the traces of perfume which were upon you, and do in 'Umra what you did in Hajj

رباح بن ابی معروف نے ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا ، اس نے جبہ پہن رکھاتھا جس پر زعفران ملی خوشبو کے نشانات تھے ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کس طر ح کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہےاور اسے کوئی جواب نہ دیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے آگے اوٹ کرتے ، آپ پر سایہ کرتے ۔ میں نے حضرت عمر سے کہا : میر ی خواہش ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو ، میں بھی کپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اپنا سر داخل کروں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو کپڑے سے چھپا دیا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کردیا اور آپ کو ( وحی کے نزول کی حالت میں ) دیکھا ۔ جب آپ کی وہ کیفیت زائل کردی گئی تو فرمایا : " ابھی عمرے کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ " ( اتنے میں ) وہ شخص آپ کے پاس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنا جبہ اتار دو ، اپنے جسم سے زعفران ملی خوشبو کا نشان دھوڈالو اور عمرے میں وہی کرو جو تم نے حج میں کرنا تھا ۔

Sahih Muslim 15:13sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ وَكَذَا فَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) specified Dhu'l-Hulaifa, for the people of Medina; Juhfa for the people of Syria; Qarn al-Manazil, for the people of Najd; Yalamlam for the people of Yemen (the Mawaqit) and those (Mawaqit) are also meant for those who live at these (places) and for those too who come from without towards them for the sake of Hajj or 'Umra. And those who live within them (within the bounds of these places) or in the suburbs of Mecca or within Mecca, they should enter upon the state of Ihram at these very places

عمرو بن دینا ر نے طاوس سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والو ں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( چاروں میقات ) ان جگہوں ( پر رہنے والے ) اور وہاں نہ رہنے والے ۔ وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جوان ( مقامات ) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرا م باندھیں

Sahih Muslim 15:14sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) specified Dhu'l-Hulaifa for the people of Medina; Juhfa for the people of Syria, Qarn al-Manazil for the people of Najd, Yalamlam for the people of Yemen (as their respective Mawaqit), and he also said:These are (Mawaqit) of them too (who live there) and everyone who comes from outside (through) their (directions) for the sake of Hajj and 'Umra and for those who live within (those bounds their Miqat is that) from which they commenced (their journey), and for the people of Mecca, Mecca itself is (the Miqat)

وہیب نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن طاوس نے اپنے والد سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( مقامات ) وہاں کے باشندوں اور ہر آنے والے ایسے شخص کے لیے ( میقات ) ہیں جو دوسرے علاقوں سے وہاں پہنچے اور حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو ۔ اور جو کو ئی ان ( مقامات ) سے اندر ہو وہ اسی جگہ سے ( احرا م ) باندھ لے ) جہاں سےوہ چلے حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے ( احرام باند ھیں ۔)

Sahih Muslim 15:15sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The people of Medina should enter upon the state of Ihram at Dhu'l-Hulaifa, and people of Syria at Juhfa, and people of Najd at Qarn (al-Manazil), and 'Abdullah (further) said: It has reached me that the Messenger of Allah (ﷺ) also caid: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam

نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے ( احرام باند ھ کر ) تلبیہ کہیں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے یہ بات بھی پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہں ۔

Sahih Muslim 15:16sahih

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - وَذُكِرَ لِي - وَلَمْ أَسْمَعْ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏ ‏.‏

Salim reported on the authority of his father ('Abdullah b. 'Umar) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The people of Medina should enter upon the state of Ihram at Dhu'l-Hulaifa; the people of Syria at Juhfa, the people of Najd at Qarn (al-Manazil). Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) said: It was mentioned to me but I did not myself bear it (directly) from the Messenger of Allah (ﷺ) having said this: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam

سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطا ب نے اپنے والد سے روایت کی ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما رہے تھے : "" اہل مدینہ کا مقام تلبیہ ( وہ جگہ جہاں سے بآواز بلند لبيك اللهم لبيك کہنے کا آغاز ہو تا ہے یعنی میقات مراد ہے ) ذوالحلیفہ ہے اہل شام کا مقام تلبیہ مهيعه وہی جحفه ہے اور اہل نجد کا قرن ( المنازل ) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( مجھے بتا نے والے ) ان لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ ۔ ۔ میں نے آپ سے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ فر ما یا "" اور اہل یمن کا مقام تلبیہ یلملم ہے ۔

Sahih Muslim 15:17sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مَهْيَعَةُ وَهِيَ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْهُ - قَالَ ‏"‏ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ ‏"‏ ‏.‏

Salim b. 'Abdullah b. 'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with them) reported his father as saying:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying that the people of Medina should enter upon the state of Ihram at Dhu'l- Hulaifa, the people of Syria at Mahya'a and that is Juhfa, and the people of Najd at Qarn (al-Manazil). 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) said: (I did not hear it myself from him) but heard from them saying that the Messenger of Allah (ﷺ) had (also) said: The people of Yemen should enter upon the state of Ihram at Yalamlam

عبد اللہ بن دینا ر سے روایت ہے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کو حکم دیا کہ وہ ذولحلیفہ سے شام والوں کو حکم دیا کہ وہ جحفہ سے اور نجد والوں کو حکم دیا کہ وہ قرن ( منا زل ) سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کا آغا ز کریں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے خبردی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے احرا م باند ھیں ۔

Sahih Muslim 15:19sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ سَمِعْتُ - ثُمَّ، انْتَهَى فَقَالَ أُرَاهُ يَعْنِي - النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Abu Zubair reported that he heard Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) saying that as he was asked about (the places for entering upon the) state of ihram, he said:I heard (and he then carried the narration directly, I think to) the Messenger of Allah (ﷺ)

روح بن عبادہ نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے مقام تلبیہ کے بارے میں پو چھا جا رہا تھا تو انھوں نے کہا : میں نے سنا پھر رک گئے اور ( کچھ وقفے کے بعد ) کہا : ان ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ( کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے سنا)

Sahih Muslim 15:20sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ سَمِعْتُ - أَحْسِبُهُ، رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ ‏ "‏ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏ ‏.‏

Abu Zubair heard Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) as saying as he was asked about (the place for entering upon the) state of Ihram:I heard (and I think he carried it directly to the Messenger of Allah) him saying: For the people of Medina Dhu'l-Hulaifa is the place for entering upon the state of Ihram, and for (the people coming through the other way, i.e. Syria) it is Juhfa; for the people of Iraq it is Dhat al-'Irq; for the people of Najd it is Qarn (al-Manazil) and for the people of Yemen it is Yalamlam

سفیا ن نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن منا زل سے احرا م باندھیں ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے بتا یا گیا ۔ ۔ ۔ میں نے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا یمن والے یلملم سے احرام باندھیں ۔

Sahih Muslim 15:21sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ تَلْبِيَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏

Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Talbiya of the Messenger of Allah (ﷺ) was this:Here I am at Thy service. O Allah, here I am at Thy service, here I am at Thy service. There is no associate with Thee; here I am at Thy service. Verily all praise and grace is due to Thee, and the sovereignty (too). There is no associate with Thee. He (the narrator) further said that 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) made this addition to it: Here I am at Thy service; here I am at Thy service; ready to obey Thee, and good is in Thy Hand; here I am at Thy service; unto Thee is the petition, and deed (is also for Thee)

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا میں نے مالک کے سامنے ( اس حدیث کی ) قراءت کی انھوں نے نافع سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَ میں بار بار حاضر ہوں اے اللہ ! تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضر ہوں یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ۔ ( کسی بھی چیز میں ) تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ اور ( نافع نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ( مذکورہ تلبیہ ) میں یہ اضا فہ فر ما یا کرتے تھے ۔ "" لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" میں تیر ے سامنے حاجر ہوں حاضر ہوں تیری اطا عت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری ہی رضا کے لیے ہیں)

Sahih Muslim 15:22sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَنَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ فَقَالَ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ - رضى الله عنه - يَزِيدُ مَعَ هَذَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏

Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon the state of Ihram near the mosque at Dhu'l-Hulaifa as his camel stood by it and he said:Here I am at Thy service, O Lord; here I am at Thy service: here I am at Thy service. There is no associate with Thee. Here I am at Thy service. All praise and grace is due to Thee and the sovereignty (too). There is no associate with Thee. They (the people) said that 'Abdullah b. 'Umar said that that was the Talbiya of the Messenger of Allah (ﷺ). Nafi' said: 'Abdullah (Allah be pleased with him) made this addition to it: Here I am at Thy service; here I am at Thy service; ready to obey Thee. The Good is in Thy Hand. Here I am at Thy service. Unto Thee is the petition and deed (is also for Thee)

موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ کے مولیٰ نافع اور حمزہ بن عبد اللہ کے واسطے سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی کھڑی ہو جا تی تو آپ تلبیہ پکا رتے اور کہتے : "" میں بار بار حاضر ہوں ۔ اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضرہوں یقیناً تمام تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ( کسی بھی چیز میں تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ ( سالم نا فع اور حمزہ نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے ۔ نافع نے کہا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ( مذکورہ بالا ) کلما ت کے ساتھ ان الفاظ کاا ضافہ کرتے : "" میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری رضا کے لیے ہیں)

Sahih Muslim 15:23sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏

Ibn 'Umar (Allah be pleased with him) reported:I immediately learnt Talbiya from the Messenger of Allah (ﷺ), and he then narrated the hadith

عبید اللہ ( بن عمربن حفص العدوی المدنی ) نے کہا مجھے نا فع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یا د کر لیا پھر سالم نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیا ن کی ۔

Sahih Muslim 15:24sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ لاَ يَزِيدُ عَلَى هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ‏.‏ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - يُهِلُّ بِإِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏

Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) pronouncing Talbiya with compacted hair: Here I am at Thy service. O Allah: here I am at Thy service; here I am at Thy service. There is no associate with Thee; here I am at Thy service. Verily all praise and grace is due to Thee and the Sovereignty (too). There is no associate with Thee; and he did not make any addition to these words. 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) (further) said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to offer two rak'ahs of prayer at Dhu'l-Hulaifa and then when his camel stood up with him on its back near the mosque at Dhu'l-Hulaifa, he pronounced these words (of Talbiya). And 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased'with them) said that 'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) pronounced, the Talbiya of the Messenger of Allah (ﷺ) in these words of his (Prophet's words) and said: Here I am at Thy service, O Lord; here I am at Thy service, ready to obey Thee, and good is in Thy Hand, Here I am at Thy service. Unto Thee is the petition and deed (is also for Thee)

ابن شہاب نے کہا : بلا شبہ سالم بن عبد اللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکا رتے سنا کہ آپ کے بال جڑے ( گوندیا خطمی بو ٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے ) ہو ئے تھے آپ کہہ رہے تھے ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَان کلما ت پر اضا فہ نہیں فر ما تے تھے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما یا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ان کلما ت سے تلبیہ پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کلما ت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تلبیہ پکا رتے تھے اور ( ساتھ یہ ) کہتے : : لبيك اللهم لبيك لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" : "" میں با ر بار حاضر ہوں ، اے اللہ !میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری طرف سے سعادتوں کا طلب گا ر ہوں ہر قسم کی بھلا ئی تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ہر دم تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے ۔

Sahih Muslim 15:25sahih

وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ ‏"‏ ‏.‏ فَيَقُولُونَ إِلاَّ شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ‏.‏ يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ‏.‏

Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the polytheists also pronounced (Talbiya) as:Here I am at Thy service, there is no associate with Thee. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Woe be upon them, as they also said: But one associate with Thee, you possess mastery over him, but he does not possess mastery (over you). They used to say this and circumambulate the Ka'ba

حضرت عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا مشر کین کہا کرتے تھے ہم حاضر ہیں ۔ تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : " تمھا ری بر بادی ! بس کرو بس کرو ( یہیں پر رک جا ؤ ) مگر وہ آگے کہتے : مگر ایک ہے شریک جو تمھا را ہے تم اس کے مالک ہو ، وہ مالک نہیں وہ لو گ بیت اللہ کا طواف کرتے ہو ئے یہی کہتے تھے ۔

Sahih Muslim 15:26sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، - رضى الله عنه - يَقُولُ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ ‏.‏

Salim b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that he heard his father saying:This place Baida' is for you that about which you attribute lie to the Messenger of Allah (ﷺ). And the Messenger of Allah (ﷺ) did not enter upon the state of Ihram but near the mosque at Dhu'l- Hulaifa

یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا میں نے مالک کے سامنے قراءت کی انھوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا انھوں نے فر ما یا : یہ تمھا را چٹیل میدا ن بيداءوہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیا نی کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب ( یعنی ذوالحلیفہ ) ہی سے احرا م باندھا تھا ۔

Sahih Muslim 15:27sahih

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ، عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - إِذَا قِيلَ لَهُ الإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ قَالَ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ ‏.‏

Salim reported that when it was said to Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) that the state of Ihram (commences from)a al-Baida' he said:Al-Baida', you attribute lie about it to the Messenger of Allah (ﷺ). And the Messenger of Allah (ﷺ) did not enter upon the state of Ihram but near the tree when his camel stood up with him

حاتم یعنی ابن اسماعیل نے مو سیٰ بن عقبہ سے انھوں نے سالم سے حدیث بیان کی کہا : جب ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا جا تا کہ احرا م بیدا ء سے ( باند ھا جا تا ) ہے تو وہ کہتے پیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط بیا نی کرتے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں درخت کے پاس ہی سے احرا م باندھا تھا ۔ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تھی ۔

Sahih Muslim 15:28sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ‏.‏ قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبَغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبَغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ‏.‏

Ubaid b. Juraij said to 'Ahdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them):'Abd al-Rahman, I find you doing four things which I do not see anyone among your companions doing. He said: Son of Juraij, what are these? Thereupon he said: You (while circumambulating the Ka'ba) do not touch but the two pillars situated on the side of yaman (south), and I find you wearing the sandals of tanned leather, and I find you with dyed beard and head, and I also found that, when you were at Mecca, the people pronounced Talbiya as they saw the new moon (Dhu'l-Hijja), but you did not do it till the 8th of Dhu'l-Hijja. Upon this 'Abdullab b. 'Umar said: (So far as the touching of) the pillars is concerned, I did not see the Messenger of Allah (ﷺ) touching them but only those situated on the side of yaman. (So far as the wearing of) the shoes of tanned leather is concerned, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wearing shoes without hair on them, and he (wore them with wet feet) after performing ablution, and I like to wear them. So far as the yellowness is concerned, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) dyeing (head, beard and cloth) with this colour and I love to dye (my head, beard or cloth) with this colour. And so far as the pronouncing of Talbiya is concerned, I did not see the Messenger of Allah (ﷺ) pronouncing it until his camel proceeded on (to Dhu'l-Hulaifa)

سعید بن ابی سعید مقبری نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اے ابو عبد الرحمٰن !میں نے آپ کو چا ر ( ایسے ) کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کے کسی اور ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا ۔ ابن عمر نے کہا : ابن جریج !وہ کو ن سے ( چار کام ) ہیں ؟ ابن جریج نے کہا : میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ( بیت اللہ کے ) دو یما نی رکنوں ( کونوں ) کے سوا اور کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگا تے ، میں نے آپ کو دیکھا ہے سبتی ( رنگے ہو ئے صاف چمڑے کے ) جو تے پہنتے ہیں ۔ ( نیز آپ کو دیکھا کہ زرد رنگ سے ( کپڑوں کو ) رنگتے یں اور آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہو تے ہیں تو لو گ ( ذوالحجہ کی ) پہلی کا چا ند دیکھتے ہی لبیک پکار نا شروع کر دیتے ہیں لیکن آپ آٹھویں کا دن آنے تک تلبیہ نہیں پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جہا ں تک ارکان ( بیت اللہ کے کونوں ) کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمنی رکنوں کے سوا ( کسی اور رکن کو ) ہاتھ لگا تے نہیں دیکھا ۔ رہے سبتی جو تے تو بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جو تے پہنے دیکھا کہ جن پر بال نہ ہو تے تھے آپ انھیں پہن کر وضو فر ما تے ( لہٰذا ) مجھے پسند ہے کہ میں یہی ( سبتی جو تے ) پہنوں ۔ رہا زرد رنگ تو بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ ( رنگ ) استعمال کرتے تھے ۔ اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میں بھی اس رنگ کو استعمال کروں ۔ اور رہی بات تلبیہ ( لبیک کہتے نہیں سنا جب تک آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی نہ ہو جا تی ۔)

Sahih Muslim 15:29sahih

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنهما - بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ مَرَّةً فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى إِلاَّ فِي قِصَّةِ الإِهْلاَلِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ ‏.‏

Ubaid b. Juraij reported:I remained in the company of 'Abdullah b. 'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with them) its twelve Hajjs and 'Umras and I said to him: I saw four characteristics (peculiar in you), and the rest of the hadith is the same except the case of Talbiya. There he offered the narration given by al-Maqburi and he stated the facts excepting the one given above

ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا : میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے ۔ میں نے کہا : اے عبد الرحمٰن !میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر ( تلبیہ بلند کرنے کے ) قصے میں مقبری کی روایت مخالفت کی ، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی ۔

Sahih Muslim 15:30sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ‏.‏

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced Talbiya in Dhu'l-Hulaifa as he put his feet in the stirrup and his camel stood up and proceeded

عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکا ب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ذوالحلیفہ سے ( اس وقت ) بلند آواز میں لبیک پکا ر نا شروع فر ما تے ۔

Sahih Muslim 15:31sahih

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً ‏.‏

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced Talbiya as his camel stood up

صالح بن کیسان نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ بتا یا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ۔

Sahih Muslim 15:32sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً ‏

Abdullah b. 'Umar reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) riding on his camel at Dhu'l-Hulaifa and pronouncing Talbiya as it stood up with him

سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکا ر نے لگے ۔

Sahih Muslim 15:33sahih

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا ‏.‏

Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) spent the night at Dhu'l-Hulaifa while commencing (the rites of) Pilgrimage and he observed prayer in the mosque

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر کے ) شروع میں ذوالحلیفہ میں رات گزاری اور وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی ۔

Sahih Muslim 15:34sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I applied perfume to the Messenger of Allah (ﷺ) before he entered upon the state of lhram and (concluding) before circumambulating the (sacred) House

عروہ نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے فر ما یا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرا م باندھا تو میں نے احرا م کے لیے اور آپ کے طواف بیت اللہ سے پہلے اھرا م کھولنے کے لیے آپ کو خوشبو لگائی ۔

Sahih Muslim 15:35sahih

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her), the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), reported:I applied perfume to the Messenger of Allah (ﷺ) with my own hand before he entered upon the state of Ihram, and as he concluded it before circumambulating the House (for Tawaf-i-lfada)

افلح بن حمید نے قاسم بن محمد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو احرام کے لیے اور طواف بیت اللہ سے پہلے جب آپ نے احرا م کھو لا تو آپ کے احرا م کھولنے کے لیے میں نے آپ کو اپنے ہا تھ سے خوشبو لگا ئی ۔

Sahih Muslim 15:36sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I used to apply perfume to the Messenger of Allah (ﷺ) before his entering upon the state of Ihram and at the conclusion of it, before circumambulating the House (for Tawaf Ifada)

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد ( قاسم بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھنے سے پہلے آپ کے احرا م کے لیے اور طواف ( افاضہ ) کرنے سے پہلے احرام کھو لنے کے لیے خوشبو لگا تی تھی ۔

Sahih Muslim 15:37sahih

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) said:I applied perfume to the Messenger of Allah (ﷺ) as he became free from Ihram and as he entered upon it

عبید اللہ بن عمر نے حدیث سنا ئی کہا : میں نے قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کھو لنے اور احرا م باند ھنے کے لیے خوشبو لگائی ۔

Sahih Muslim 15:38sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمَ، يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالإِحْرَامِ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) said:I applied perfume of Dharira to the Messenger of Allah (ﷺ) with my hand (on the occasion of) the Farewell Pilgrimage on freeing from the state of Ihram and entering upon it

عمر بن عبد اللہ بن عروہ نے خبر دی کہ انھوں نے عروہ اور قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دیتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا حجۃ الودع کے موقع پر میں نے اپنے ہا تھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کھو لنے اور احرا م باند ھنے کے لیے ذریرہ ( نامی ) خوشبو لگا ئی ۔

Sahih Muslim 15:39sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - بِأَىِّ شَىْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ حِرْمِهِ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ‏.‏

Uthman b. 'Urwa reported on the authority of his father that he said:I asked 'A'isha with what thing she perfumed the Messenger of Allah (ﷺ) at the time of entering upon the state of Ihram. She said: With the best of perfume

سفیان نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں عثمان بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھتے وقت کو ن سی خوشبو لگا ئی تھی ؟انھوں نے فر ما یا سب سے اچھی خوشبو ۔

Sahih Muslim 15:40sahih

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ثُمَّ يُحْرِمُ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I applied the best perfume, which I could get, to the Messenger of Allah (ﷺ) before entering upon the state of Ihram (and after this) he put on the Ihram

ہشا م سے روایت ہے انھوں نے عثمان بن عروہ سے روایت کی کہا : میں عروہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھنے سے پہلے جو سب سے عمد ہ خوشبو لگا سکتی تھی لگا تی پھر آپ احرا م باندھتےتھے ۔

Sahih Muslim 15:41sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I applied the best available perfume I could find to the Messenger of Allah (ﷺ) before he entered upon the state of Ihram and after he was free from it

ابو الرجال ( محمد بن عبد الر حمان بن حارثہ انصاری ) نے اپنی والد ہ ( عمرہ بنت عبد الرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بن سعد زرارہ انصار یہ ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھتے وقت جب آپ احرا م کا ارادہ فرماتے اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے احرا م کھو لتے وقت جو سب سے عمدہ خوشبو پا ئی وہ لگا ئی ۔

Sahih Muslim 15:42sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَقُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏ وَلَكِنَّهُ قَالَ وَذَاكَ طِيبُ إِحْرَامِهِ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allah's Messenger's (ﷺ) head as he was in the state of Ihram, and Khalaf (one of the narrators) did not say: As he was in the state of Ihram, but said: That was the perfume of Ihram

منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں ۔ خلف نے "" جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں "" کے الفا ظ نہیں کہے ۔ لیکن انھوں نے یہ کہا وہ آپ کے احرا م کی خوشبو تھی ( جو آپ نے احرا م باند ھنے سے پہلے اپنے جسم کو لگوائی تھی)

Sahih Muslim 15:43sahih

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُهِلُّ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allah's Messenger's (ﷺ) head and he was free from Ihram

اعمش نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے لبیک پکا ر رہے ہیں ۔

Sahih Muslim 15:44sahih

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُلَبِّي‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allah's Messenger's (ﷺ) head, while he was pronouncing Talbiya

ابو الضحی نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایسے لگتا ہے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ تلبیہ پکار رہے ہیں ۔

Sahih Muslim 15:45sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see; the rest of the hadith is the same

مسلم نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا لگتا ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں ( آگے ) وکیع کی حدیث کے مانند ہے ۔

Sahih Muslim 15:46sahih

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) said:I still seem to see the glistening of the perfume where the hair was parted on Allah's Messeinger's (ﷺ) head while he was in the state of Ihram

حکم نے کہا : میں نے ابرا ہیم کو اسود سے حدیث بیان کرتے سنا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں ( مانگ ) میں کوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرا م باندھا ہوا ہے ۔

Sahih Muslim 15:47sahih

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لأَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to perceive the glistening of perfume where the hair was parted on Allah's Messenger's (ﷺ) head as he was in the state of Ihram

مالک بن مغول نے عبد الرحمٰن بن اسود سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے فر ما یا : بلا شبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرا م کی حالت میں ہیں ۔

Sahih Muslim 15:48sahih

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، - وَهُوَ السَّلُولِيُّ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، إِسْحَاقَ سَمِعَ ابْنَ الأَسْوَدِ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ ثُمَّ أَرَى وَبِيصَ الدُّهْنِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) intended to enter upon the state of Ihram he perfumed himself with the best of perfumes which he could find and after that I saw the glistening of oil on his head and beard

ابو اسحاق نے ( عبد الرحمٰن ) بن اسود کو اپنے والد ( اسود بن یزید ) سے روایت کرتے ہو ئے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م باندھنے کا ارادہ فر ما تے تو ( اس وقت ) جو بہترین خوشبو آپ کو میسر ہو تی اسے لگا تے اس کے بعد میں ( آپ کے احرا م باندھنے کے بعد ) آپ کے سراور داڑھی میں ( خوشبو کے ) تیل کی چمک دیکھتی

Sahih Muslim 15:49sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I still seem to see the glistening of musk (in the parting of the head) of the Messenger of Allah (ﷺ) while he was in the state of Ihram

حسن بن عبد اللہ سے روایت ہے کہا ہمیں ابرا ہیم نے اسود سے حدیث بیان کی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : ایسا لگتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرا م باند ھے ہو ئے ہیں ۔

Sahih Muslim 15:50sahih

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏

This hadith has been narrated by 'Ubaidullah with the same chain of transmitters

سفیان نے حسن بن عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔

Sahih Muslim 15:51sahih

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ ‏.‏

A'isha (Allah be pleased with her) reported:I used to perfume the Messenger of Allah (ﷺ) with a perfume containing musk before entering upon the state of Ihram and on the day of sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja) and (at the conclusion of Ihram) before circumambulating the House (for Tawaf-i-Ifada)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھنے سے پہلے اور قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی جس میں کستوری ملی ہو تی تھی ۔