The Book of Marriage
Book 16 · 168 hadith
عبدہ بن سلیمان ، سفیان اور شعبہ نے صالح بن صالح کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلاَ نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ . قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
Alqama reported:While I was walking with 'Abdullah at Mina, 'Uthman happened to meet him. He stopped there and began to talk with him. Uthman said to him: Abu 'Abd al-Rahman, should we not marry you to a young girl who may recall to you some of the past of your bygone days; thereupon he said: If you say so, Allah's Messenger (ﷺ) said: 0 young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes from casting (evil glances). and preserves one from immorality; but those who cannot should devote themselves to fasting for it is a means of controlling sexual desire
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ س ے ان کی ملاقات ہوئی ، وہ کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اِن سے کہا : ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں ، شاید وہ آپ کو آپ کا وہی زمانہ یاد کرا دے جو گزر چکا ہے؟ کہا : تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو ( اس سے پہلے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا : " اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو کوئی شادی کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے ، یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والی اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو وہ روزے کو لازم کر لے ، یہ اس کے لیے خواہش کو قابو میں کرنے کا ذریعہ ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ إِنِّي لأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ هَلُمَّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَاسْتَخْلاَهُ فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ - قَالَ - قَالَ لِي تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ - قَالَ - فَجِئْتُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَلاَ نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَارِيَةً بِكْرًا لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ .
Alqama reported:While I was going along with 'Abdullah b. Ma'sud (Allah he pleased with him) in Mina, 'Uthman b. 'Affan (Allah be pleased with him) happened to meet him and said: Come here, Abu 'Abd al-Rahman (kunya of Abdullah b. Mas'ud), and he isolated him (from me), and when 'Abdullah (b. Mas'ud) saw that there was no need (for this privacy), he said to me: 'Alqama, come on, and so I went there. (Then) 'Uthman said to him: Abu Abd al-Rahman, should we not marry you to a virgin girl that your past may be recalled to your mind? 'Abdullah said: If you say so, the rest of the hadith is the same as narrated above
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے روایت کی ، کہا : میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان سے ملے تو انہوں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن! ( میرے ساتھ ) آئیں ۔ کہا : وہ انہیں تنہائی میں لے گئے ۔ جب عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں اس ( تنہائی ) کی ضرورت نہیں ، تو انہوں نے مجھے بلا لیا ۔ ( کہا : ) علقمہ آ جاؤ! میں آ گیا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی کنواری لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں ، شاید یہ آپ کے دل کی اسی کیفیت کو لوٹا دے جو آپ ( عہد جوانی ) میں محسوس کرتے تھے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر آپ نے یہ بات کہی ہے ۔ ۔ ۔ پھر ابومعاویہ کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
Abdullah (b. Mas'ud) (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to us:0 young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes (from casting evil glances) and preserves one from immorality; but he who cannot afford It should observe fast for it is a means of controlling the sexual desire
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے ، یہ نگاہوں کو جھکانے اور شرمنگاہ کی حفاظت کرنے میں ( دوسری چیزوں کی نسبت ) بڑھ کر ہے ، اور جو استطاعت نہ پائے ، وہ خود پر روزے کو لازم کر لے ، یہ اس کے لیے اس کی خواہش کو قطع کرنے والا ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَمِّي، عَلْقَمَةُ وَالأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ وَأَنَا شَابٌّ، يَوْمَئِذٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا رُئِيتُ أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ، مِنْ أَجْلِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَزَادَ قَالَ فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ .
Abu al-Rahman b. Yazid said:I and my uncle 'Alqama and al-Aswad went to 'Abdullah b. Mas'ud (Allah be pleased with him). He (the narrator further) said: I was at that time young, and he narrated a hadith which it seemed he narrated for me that Allah's Messenger (ﷺ) said like one transmitted by Mu'awiya, and further added: I lost no time in marrying
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید ( بن قیس ) سے روایت کی ، کہا : میں ، میرے چچا علقمہ ( بن قیس ) اور ( میرے بھائی ) اسود ( بن یزید بن قیس ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ کہا : میں ان دنوں جوان تھا ۔ انہوں نے ایک حدیث بیان کی ، مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ انہوں نے میری وجہ سے بیان کی ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابومعاویہ کی حدیث کے مانند ہے ۔ اور ( یہ ) اضافہ کیا ، کہا : اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ .
Abd al-Rahman b. Yazid reported on the authority of Abdullah:We went to him, and I was the youngest of all (of us), but he did not mention:" I lost no time in marrying
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( عبدالرحمان بن یزید نے ) کہا : ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں سب سے کم عمر تھا ، آگے انہی کی حدیث کے مانند ہے ، ( مگر ) انہوں نے یہ نہیں کہا : " اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ آكُلُ اللَّحْمَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ . فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ . فَقَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي " .
Anas (Allah be pleased with him) reported that some of the Companions of Allah's Apostle (ﷺ) asked his (the Prophet's) wives about the acts that he performed in private. Someone among them (among his Companions) said:I will not marry women; someone among them said: I will not eat meat; and someone among them said: I will not lie down in bed. He (the Holy Prophet) praised Allah and glorified Him, and said: What has happened to these people that they say so and so, whereas I observe prayer and sleep too; I observe fast and suspend observing them; I marry women also? And he who turns away from my Sunnah, he has no relation with Me
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج مطہرات سے آپ کی تنہائی کے معمولات کے بارے میں سوال کیا ، پھر ان میں سے کسی نے کہا : میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا ، کسی نے کہا : میں گوشت نہیں کھاؤں گا ، اور کسی نے کہا : میں بستر پر نہیں سوؤں گا ۔ ( آپ کو پتہ چلا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی ، اس کی ثنا بیان کی اور فرمایا : " لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اس اس طرح سے کہا ہے ۔ لیکن میں تو نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں ، روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، جس نے میری سنت سے رغبت ہٹا لی وہ مجھ سے نہیں
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا .
Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) reported:The Messengger of Allah (ﷺ) rejected (the idea) of Uthman b. Muz'unliving in celibacy (saying): And if he (the Holy Prophet) had given me permission We would have got ourselves castrated
معمر نے زہری سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن معظون رضی اللہ عنہ کی ( طرف سے ) نکاح کو ترک کر کے عبادت میں مشغولیت ( کے ارادے ) کو مسترد فرما دیا ۔ اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم سب خود کو خصی کر لیتے
وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ رُدَّ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلُ وَلَوْ أُذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا .
Sa'id b. al-Musayyib reported:I heard Sa'd (b. Abi Waqqas) saying that the idea of 'Uthman b. Maz'un for living in celibacy was rejected (by the Holy Prophet), and if he had been given permission they would have got themselves castrated
ابراھیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث بیان کی انہو ں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے سعد سے سنا وہ کہہ رہے تھے ’’عثمان بن معون رضی اللہ عنہ کے ترک نکاح کو ( ارادے کو ) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے رد کر دیا گیا ‘ اگر انہیں اجازت مل جاتی تو ہم سب خصی ہو جاتے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ لاَخْتَصَيْنَا .
Sa'id b. al Musayyib heard Sa'd b. Abi Waqqas (Allah be pleased with him) saying that Uthman b. Maz'un decided to live in celibacy, but Allah's Messenger (ﷺ) forbade him to do so, and if he had permitted him, we would have got ourselves castrated
عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : عثمان بن معثون رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ ( عبادے کے لئے نکاح اور گھرداری سے ) الگ ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا ، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهْىَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً لَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ " .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw a woman, and so he came to his wife, Zainab, as she was tanning a leather and had sexual intercourse with her. He then went to his Companions and told them:The woman advances and retires in the shape of a devil, so when one of you sees a woman, he should come to his wife, for that will repel what he feels in his heart
ہشام بن ابی عبداللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑ گئی تو آپ اپنی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ۔ وہ اپنے لیے ایک چمڑے کو رنگ رہی تھیں ، آپ نے ( گھر میں ) اپنی ضرورت پوری فرمائی ، پھر اپنے صحابہ کی طرف تشریف لے گئے ، اور فرمایا : " بلاشبہ ( فتنے میں ڈالنے کے حوالے سے ) عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان ہی کی صورت میں مڑکر واپس جاتی ہے ۔ تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے ، بلاشبہ یہ چیز اس خواہش کو ہتا دے گی جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے ،
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِي، الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهْىَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً . وَلَمْ يَذْكُرْ تُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ .
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) saw a woman; and the rest of the hadith was narrated but (with this exception) that he said he came to his wife Zainab, who was tanning a (piece of) leather, and he made no mention of:" She retires in the shape of satan
حرب بن ابوعالیہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ، البتہ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ چمڑے کو رنگ رہی تھیں ۔ اور یہ نہیں کہا : " وہ شیطان کی صورت میں واپس آ جاتی ہے
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ " .
Jabir heard Allah's Apostle (ﷺ) say:When a woman fascinates any one of you and she captivates his heart, he should go to his wife and have an intercourse with her, for it would repel what he feels
معقل نے ابوزبیر سے روایت کی ، کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تم میں سے کسی کو ، کوئی عورت اچھی لگے ، اور اس کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کا رخ کرے اور اس سے صحبت کرے ، بلاشبہ یہ ( عمل ) اس کیفیت کو دور کر دے گا جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، وَابْنُ، بِشْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا أَلاَ نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} .
Abdullah (b. Mas'ud) reported:We were on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ) and we had no women with us. We said: Should we not have ourselves castrated? He (the Holy Prophet) forbade us to do so He then granted us permission that we should contract temporary marriage for a stipulated period giving her a garment, and 'Abdullah then recited this verse: 'Those who believe do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you, and do not transgress. Allah does not like trangressers" (al-Qur'an, v)
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے کہا : میرے والد نے اور وکیع اور ابن بشیر نے ہمیں اسماعیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قیس سے روایت کی ، کہا : میں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہیں ہوتی تھیں ، تو ہم نے ( آپ سے ) دریافت کیا : کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ، پھر آپ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے ( یا ضرورت کی کسی اور چیز ) کے عوض مقررہ وقت تک نکاح کر لیں ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ آیت ) تلاوت کی : " اے لوگو جو ایمان لائے! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو ، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الآيَةَ . وَلَمْ يَقُلْ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters and he also recited this (above-mentioned verse) to us, but he did not say that 'Abdullah recited it
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا : " پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی ۔ " انہوں نے ( نام لے کر " عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پڑھی " نہیں کہا)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَسْتَخْصِي وَلَمْ يَقُلْ نَغْزُو .
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters (and the words are):" We were young, so we said: Allah's Messenger, should we not have ourselves castrated? But he (the narrator) did not say; We were on an expedition
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور کہا : ہم سب نوجوان تھے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اور انہوں نے نغزو ( ہم جہاد کرتے تھے ) کے الفاظ نہیں کہے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا . يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ .
Jabir b. 'Abdullah and Salama b. al-Akwa' said:There came to us the proclaimer of Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger (ﷺ) has granted you permission to benefit yourselves, i. e. to contract temporary marriage with women
شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حسن بن محمد سے سنا ، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع ( فائدہ اٹھانے ) ، یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ .
Salama b. al. Akwa' and Jabir b. Abdullah reported:Allah's Messenger (ﷺ) came to us and permitted us to contract temporary marriage
روح بن قاسم نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حسن بن محمد سے ، انہوں نے سلمہ بن اکوع اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ( اعلان کی صورت میں آپ کا پیغام آیا ) اور ہمیں متعہ کی اجازت دی
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قَالَ عَطَاءٌ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمِ اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ .
Ibn Uraij reported:'Ati' reported that jibir b. Abdullah came to perform 'Umra, and we came to his abode, and the people asked him about different things, and then they made a mention of temporary marriage, whereupon he said: Yes, we had been benefiting ourselves by this temporary marriage during the lifetime of the Prophet (ﷺ) and during the time of Abu Bakr and 'Umar
عطاء نے کہا : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا ، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ .
Jabir b. 'Abdullah reported:We contracted temporary marriage giving a handful of (tales or flour as a dower during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and durnig the time of Abu Bakr until 'Umar forbade it in the case of 'Amr b. Huraith
مجھے ابوزبیر نے خبر دی ، کہا : میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض چند دنوں کے لئے متعہ کرتے تھے ، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حُریث کے واقعے ( کے دوران ) میں اس سے منع کر دیا
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا .
Abu Nadra reported:While I was in the company of Jabir b. Abdullah, a person came to him and said that Ibn 'Abbas and Ibn Zubair differed on the two types of Mut'as (Tamattu' of Hajj 1846 and Tamattu' with women), whereupon Jabir said: We used to do these two during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). Umar then forbade us to do them, and so we did not revert to them
ابونضرہ سے روایت ہے ، کہا : میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا ( ملاقاتی ) آیا اور کہنے لگا : حضرت ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے دونوں متعتوں ( حج تمتع اور نکاح متعہ ) کے بارے میں اختلاف کیا ہے ۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وہ دونوں کام کیے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے منع کر دیا ، پھر ہم نے دوبارہ ان کا رخ نہیں کیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلاَثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا .
Iyas b. Salama reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) gave sanction for contracting temporary marriage for three nights in the year of Autas 1847 and then forbade it
ایاس بن سلمہ نے اپنے والد ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے سال تین دن متعے کی اجازت دی ، پھر اس سے منع فرما دیا
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، سَبْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمُتْعَةِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تُعْطِي فَقُلْتُ رِدَائِي . وَقَالَ صَاحِبِي رِدَائِي . وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَ كُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَىَّ أَعْجَبْتُهَا ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي . فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا " .
Sabra Juhanni reported:Allah's Messenger (ﷺ) permitted temporary marriage for us. So I and another person went out and saw a woman of Bana 'Amir, who was like a young long-necked she-camel. We presented ourselves to her (for contracting temporary marriage), whereupon she said: What dower would you give me? I said: My cloak. And my companion also said: My cloak. And the cloak of-my companion was superior to my cloak, but I was younger than he. So when she looked at the cloak of my companion she liked it, and when she cast a glance at me I looked more attractive to her. She then said: Well, you and your cloak are sufficient for me. I remained with her for three nights, and then Allah's Messenger (ﷺ) said: He who has any such woman with whom he had contracted temporary marriage, he should let her off
لیث نے ہمیں ربیع بن سبرہ جہنی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سبرہ ( بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نکاح ) متعہ کی اجازت دی ۔ میں اور ایک آدمی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے ، وہ جوان اور لمبی گردن والی خوبصورت اونٹنی جیسی تھی ، ہم نے خود کو اس کے سامنے پیش کیا تو اس نے کہا : کیا دو گے؟ میں نے کہا : اپنی چادر ۔ اور میرے ساتھی نے بھی کہا : اپنی چادر ۔ میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے بہتر تھی ، اور میں اس سے زیادہ جوان تھا ۔ جب وہ میرے ساتھی کی چادر کی طرف دیکھتی تو وہ اسے اچھی لگتی اور جب وہ میری طرف دیکھتی تو میں اس کے دل کو بھاتا ، پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا : تم اور تمہاری چادر ہی میرے لیے کافی ہے ۔ اس کے بعد میں تین دن اس کے ساتھ رہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی کے پاس ان عورتوں میں سے ، جن سے وہ متعہ کرتا ہے ، کوئی ( عورت ) ہو ، تو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ - ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ - فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلاَهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلاَنِ فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ . فَتَقُولُ بُرْدُ هَذَا لاَ بَأْسَ بِهِ . ثَلاَثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Rabi' b. Sabra reported that his father went on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ) during the Victory of Mecca, and we stayed there for fifteen days (i. e. for thirteen full days and a day and a night), and Allah's Messenger (ﷺ) permitted us to contract temporary marriage with women. So I and another person of my tribe went out, and I was more handsome than he, whereas he was almost ugly. Each one of us had a cloaks, My cloak was worn out, whereas the cloak of my cousin was quite new. As we reached the lower or the upper side of Mecca, we came across a young woman like a young smart long-necked she-camel. We said:Is it possible that one of us may contract temporary marriage with you? She said: What will you give me as a dower? Each one of us spread his cloak. She began to cast a glance on both the persons. My companion also looked at her when she was casting a glance at her side and he said: This cloak of his is worn out, whereas my cloak is quite new. She, however, said twice or thrice: There is no harm in (accepting) this cloak (the old one). So I contracted temporary marriage with her, and I did not come out (of this) until Allah's Messenger (ﷺ) declared it forbidden
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، کیا : ہمیں عمارہ بن غزیہ نے ربیع بن سبرہ سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی ، کہا : ہم نے وہاں پندرہ روز ۔ ۔ ۔ ( الگ الگ دن اور راتیں گنیں تو ) تیس شب و روز ۔ ۔ قیام کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی ، چنانچہ میں اور میری قوم کا ایک آدمی نکلے ۔ مجھے حسن میں اس پر ترجیح حاصل تھی اور وہ تقریبا بدصورت تھا ۔ ہم دونوں میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی ، میری چادر پرانی تھی اور میرے چچا زاد کی چادر نئی ( اور ) ملائم تھی ، حتی کہ جب ہم مکہ کے نشیبی علاقے میں یا اس کے بالائی علاقے میں پہنچے تو ہماری ملاقات لمبی گردن والی جوان اور خوبصورت اونٹنی جیسی عورت سے ہوئی ، ہم نے کہا : کیا تم چاہتی ہو کہ ہم میں سے کوئی ایک تمہارے ساتھ متعہ کرے؟ اس نے کہا : تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟ اس پر ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی چادر ( اس کے سامنے ) پھیلا دی ، اس پر اس نے دونوں آدمیوں کو دیکھنا شروع کر دیا اور میرا ساتھی اس کو دیکھنے لگا اور اس کے پہلو پر نظریں گاڑ دیں اور کہنے لگا : اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور ملائم ہے ۔ اس پر وہ کہنے لگی : اس کی چادر میں بھی کوئی خرابی نہیں ۔ تین بار یا دو بار یہ بات ہوئی ۔ پھر میں نے اس سے متعہ کر لیا اور پھر میں اس کے ہاں سے ( اس وقت تک ) نہ نکلا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( متعے کو ) حرام قرار دے دیا
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ . وَزَادَ قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاكَ وَفِيهِ قَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ .
Rabi' b. S'abra al-jahanni reported on the authority of his father. We went with Allah's Messenger (ﷺ) to Mecca during the year of Victory and he narrated like this a hadith transmitted by Bishr (the previous one) but with this addition:" She said: Can it be possible?" And it is also mentioned in it:" He said: The cloak of this (man) is old and worn out
ہمیں وُہَیب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عُمارہ بن غزیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : فتح مکہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ، آگے بشر کی حدیث کے مانند بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : اس عورت نے کہا : کیا یہ ( متعہ ) جائز ہے؟ اور اسی ( روایت ) میں ہے : ( میرے ساتھی نے ) کہا : اس کی چادر پرانی بوسیدہ ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاِسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَىْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ وَلاَ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا" .
Sabra al-Juhani reported on the authority of his father that while he was with Allah's Messenger (ﷺ) he said:O people, I had permitted you to contract temporary marriage with women, but Allah has forbidden it (now) until the Day of Resurrection. So he who has any (woman with this type of marriage contract) he should let her off, and do not take back anything you have given to them (as dower)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبدالعزیز بن عمر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگو! بےشک میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی ، اور بلاشبہ اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے ، اس لیے جس کسی کے پاس ان عورتوں میں سے کوئی ( عورت موجود ) ہو تو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے ، اور جو کچھ تم لوگوں نے انہیں دیا ہے اس میں سے کوئی چیز ( واپس ) مت لو
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
This hadith has been narrated on the authority of 'Abd al-'Aziz b 'Umar with the same chain of transmitters, and he said:I saw Allah's Messenger (ﷺ) standing between the pillar and the gate (of the Ka'ba) and he was relating a hadith as narrated by Ibn Numair
عبدہ بن سلیمان نے عبدالعزیز بن عمر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود اور ( بیت اللہ کے ) دروازے کے درمیان کھڑے ہوئے دیکھا ، اور آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن نمیر کی حدیث کی طرح ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَكَّةَ ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّى نَهَانَا عَنْهَا.
Abd al-Malik b. Rabi' b. Sabraal-Juhanni reported on the authority of his father who narrated it on the authority of his father (i e. 'Abd al-Malik's grandfather, Sabura al-Juhanniy Allah's Messenger (ﷺ) permitted us to contract temporary marriage in the Year of Victory, as we entered Mecca, and we did come out of it but he forbade us to do it
عبدالملک بن ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : فتح مکہ کے سال جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نکاح ) متعہ ( کے جواز ) کا حکم دیا ، پھر ابھی ہم وہاں سے نکلے نہ تھے کہ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنَ النِّسَاءِ - قَالَ - فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ حَتَّى وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَى نَفْسِهَا وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي وَتَرَى بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَى صَاحِبِي فَكُنَّ مَعَنَا ثَلاَثًا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِفِرَاقِهِنَّ .
Sabra b. Ma'bad reported that Allah's Apostle (ﷺ) permitted his Companions to contract temporary marriage with women in the Year of Victory. So I and a friend of mine from Banu Sulaim went out, until we found a young woman of Banu Amir who was like a young she-camel having a long neck. We proposed to her for contracting temporary marriage with us, and presented to her our cloaks (as dower). She began to look and found me more handsome than my friend, but found the cloak of my friend more beautiful than my cloak. She thought in her mind for a while, but then preferred me to my friend. So I remained with her for three (nights), and then Allah's Messenger (ﷺ) commanded us to part with them (such women)
عبدالعزیز بن ربیع بن سبرہ بن معبد نے کہا : میں نے اپنے والد ربیع بن سبرہ سے سنا ، وہ اپنے والد سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو عورتوں کے ساتھ متعہ کر لینے کا حکم دیا ۔ میں اور بنو سُلیم میں سے میرا ایک ساتھی نکلے ، حتیٰ کہ ہم نے بنو عامر کی ایک جوان لڑکی کو پایا ، وہ ایک جوان اور خوبصورت لمبی گردن والی اونٹنی کی طرح تھی ۔ ہم نے اسے نکاح ( متعہ ) کا پیغام دیا ، اور اس کے سامنے اپنی چادریں پیش کیں ، وہ غور سے دیکھنے لگی ، مجھے میرے ساتھی سے زیادہ خوبصورت پاتی اور میرے ساتھی کی چادر کو میری چادر سے بہتر دیکھتی ، اس کے بعد اس نے گھڑی بھر اپنے دل سے مشورہ کیا ، پھر اس نے مجھے میرے ساتھی پر فوقیت دی ، پھر یہ عورتیں تین دن تک ہمارے ساتھ رہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کو علیحدہ کرنے کا حکم دیا
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ .
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Apostle (ﷺ) prohibited the contracting of temporary marriage
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ربیع بن سبرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرما دیا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ، بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ.
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) forbade on the Day of Victory to contract temporary marriage with women
معمر نے زہری سے ، انہوں نے ربیع بن سبرہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے ( دنوں میں سے ایک ) دن عورتوں کے ساتھ ( نکاح ) متعہ کرنے سے منع فرما دیا
وَحَدَّثَنِيهِ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ زَمَانَ الْفَتْحِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَأَنَّ أَبَاهُ كَانَ تَمَتَّعَ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ
This hadith has been narrated on the authority of Rabi' b. Sabra that Allah's Messenger (ﷺ) forbade to contract temporary marriage with women at the time of Victory, and that his father had contracted the marriage for two red cloaks
صالح سے روایت ہے ، کہا : ہمیں ابن شہاب نے ربیع بن سبرہ جہنی سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد ( سبرہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے اِن کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانے میں عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرما دیا تھا ، اور یہ کہ ان کے والد ( سبرہ ) نے ( اپنے ساتھی کے ہمراہ ) دو سرخ چادریں پیش کرتے ہوئے نکاح متعہ کیا تھا
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَامَ بِمَكَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا - أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ - يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ - يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ - فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ - يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهُ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ مَهْلاً . قَالَ مَا هِيَ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ . قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْكَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُتْعَةِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ .
Urwa b. Zabair reported that 'Abdullah b. Zubair (Allah be pleased with him) stood up (and delivered an address) in Mecca saying:Allah has made blind the hearts of some people as He has deprived them of eyesight that they give religious verdict in favour of temporary marriage, while he was alluding to a person (Ibn 'Abbas). Ibn Abbas called him and said: You are an uncouth person, devoid of sense. By my life, Mut'a was practised during the lifetime of the leader of the pious (he meant Allah's Messenger, may peace be upon him), and Ibn Zubair said to him: just do it yourselves, and by Allah, if you do that I will stone you with your stones. Ibn Shihab said. Khalid b. Muhajir b. Saifullah informed me: While I was sitting in the company of a person, a person came to him and he asked for a religious verdict about Mut'a and he permitted him to do it. Ibn Abu 'Amrah al-Ansari (Allah be pleased with him) said to him: Be gentle. It was permitted in- the early days of Islam, (for one) who was driven to it under the stress of necessity just as (the eating of) carrion and the blood and flesh of swine and then Allah intensified (the commands of) His religion and prohibited it (altogether). Ibn Shihab reported: Rabi' b. Sabra told me that his father (Sabra) said: I contracted temporary marriage with a woman of Banu 'Amir for two cloaks during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) ; then he forbade us to do Mut'a. Ibn Shihab said: I heard Rabi' b. Sabra narrating it to Umar b. 'Abd al-'Aziz and I was sitting there
مجھے یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں کھڑے ہوئے ، اور کہا : بلاشبہ کچھ لوگ ہیں ، اللہ نے ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے ۔ وہ لوگوں کو متعہ ( کے جواز ) کا فتویٰ دیتے ہیں ، وہ ایک آدمی ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) پر تعریض کر رہے تھے ، اس پر انہوں نے ان کو پکارا اور کہا : تم بے ادب ، کم فہم ہو ، میری عمر قسم! بلاشبہ امام المتقین کے عہد میں ( نکاح ) متعہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ۔ ۔ تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم خود اپنے ساتھ اس کا تجربہ کر ( دیکھو ) ، بخدا! اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہارے ( ہی ان ) پتھروں سے ( جن کے تم مستحق ہو گے ) تمہیں رجم کروں گا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ اس اثنا میں جب وہ ان صاحب ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور متعہ کے بارے میں ان سے فتویٰ مانگا تو انہوں نے اسے اس ( کے جواز ) کا حکم دیا ۔ اس پر ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ٹھہریے! انہوں نے کہا : کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! میں نے امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کیا ہے ۔ ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ یہ ( ایسا کام ہے کہ ) ابتدائے اسلام میں ایسے شخص ے لئے جو ( حالات کی بنا پر ) اس کے لئے مجبور کر دیا گیا ہو ، اس کی رخصت تھی جس طرح ( مجبوری میں ) مردار ، خون اور سور کے گوشت ( کے لیے ) ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو محکم کیا اور اس سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے بتایا کہ ان کے والد نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ ( کی پیش کش ) پر متعہ کیا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا ، وہ یہی حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کر رہے تھے اور میں ( اس مجلس میں ) بیٹھا ہوا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةَ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَالَ " أَلاَ إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا فَلاَ يَأْخُذْهُ " .
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father:Allah's Messenger (ﷺ) prohibited the contracting of temporary marriage and said: Behold, it is forbidden from this very day of yours to the Day of Resurrection, and he who has given something (as a dower) should not take it back
ہمیں معقل نے ابن ابی عبلہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعے سے روکا اور فرمایا : " خبردار! یہ تمہارے آج کے دن سے قیامت کے دن تک کے لیے حرام ہے اور جس نے ( متعے کے عوض ) کوئی چیز دی ہو وہ اسے واپس نہ لے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
Ali b. AbiTalib reported that Allah's Messenger (ﷺ) prohibited on the Day of Khaibar the contracting of temporary marriage with women and the eating of the flesh of domestic asses
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور حسن سے ، ان دونوں نے اپنے والد سے ، اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ لِفُلاَنٍ إِنَّكَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ .
Malik narrated this hadith on the authority of the same chain of trans- witters that 'Ali b. Abil Talib said to a person:You are a person led astray; Allah's Messenger (ﷺ) forbade us (to do Mut'a), as is stated In the hadith transmitted on the authority of Yahya b. Malik
ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں جویریہ ( بن اسماء بن عبید ضبعی ) نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : انہوں ( محمد بن علی ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فلاں ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) سے کہہ رہے تھے : تم حیرت میں پڑے ہوئے ( حقیقت سے بے خبر ) شخص ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا ۔ ۔ ۔ آگے یحییٰ بن یحییٰ کی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ .
Muhammad b. 'Ali narrated on the authority of his father 'Ali that Allah's Apostle (ﷺ) on the Day of Khaibar prohibited for ever the contracting of temporary marriage and eating of the flesh of the domestic asses
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دونوں بیٹوں حسن اور عبداللہ سے ، ان دونوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ( نکاح ) متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا تھا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ مَهْلاً يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
Ali (Allah be pleased with him) heard that Ibn Abbas (Allah be pleased with them) gave some relaxation in connection with the contracting of temporary marriage, whereupon he said:Don't be hasty (in your religious verdict), Ibn 'Abbas, for Allah's Messenger (ﷺ) on the Day of Khaibar prohibited that forever - along with the eating of flesh of domestic asses
عبیداللہ نے ابن شہاب سے ، انہوں نے محمد بن علی سے کے دونوں بیٹوں حسن اور عبداللہ سے ، ان دونوں نے اپنے والد ( محمد ابن حنفیہ ) سے ، اور انہوں نے ( اپنے والد ) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ عورتوں سے متعہ کرنے کے بارے میں ( فتویٰ دینے میں ) نرمی سے کام لیتے ہیں ، انہوں نے کہا : ابن عباس! ٹھہریے! بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن اس سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا تھا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
Ali (Allah be pleased with him) said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) that Allah's Messenger (ﷺ) on the Day of Khaibar forbade forever the contracting of temporary marriage and the eating of the flesh of domestic asses
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے محمد بن علی بن ابی طالب کے بیٹوں حسن اور عبداللہ سے ( اور ) ان دونوں نے اپنے والد ( محمد بن علی ابن حنفیہ ) سے روایت کی ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ " لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace upon him) having said this:One should not combine a woman and her father's sister, nor a woman and her mother's sister in marriage
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو ، اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( نکاح میں ) اکٹھا نہ کیا جائے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:that Allah's Messenger (ﷺ) forbade combining of four women in marriage: a woman with her father's sister, and a woman with her mother's sister
عِراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کے بارے میں منع فرمایا کہ ان کو ( نکاح میں باہم ) جمع کیا جائے : عورت اور اس کی پھوپھی ( یا ) عورت اور اس کی خالہ
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ مَدَنِيٌّ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ وَلَدِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُنْكَحُ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ الأَخِ وَلاَ ابْنَةُ الأُخْتِ عَلَى الْخَالَةِ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: Father's sister should not be combined with her brother's daughter, nor the daughter of a sister with her mother's sister
عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " بھائی کی بیٹی پر پھوپھی کو نہ بیاہا جائے اور نہ خالہ کے ہوتے ہوئے بھانجی سے نکاح کیا جائے ۔ " ( اصل مقصود یہی ہے کہ یہ اکٹھی ایک شخص کے نکاح میں نہ آئیں)
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا وَعَمَّةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade a person to combine in marriage a womanarid her father's sister, and a woman and her mother's sister. Ibn Shihab said:So we regarded the paternal aunt of her (wife's) father and the maternal aunt of her (wife's) father at the same level
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے قبیصہ بن ذؤیب کعبی نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( اپنے نکاح میں ایک ساتھ ) جمع کرے ۔ ابن شہاب نے کہا : ہم اس ( منکوحہ عورت ) کے والد کی خالہ اور والد کی پھوپھی کو بھی اسی حیثیت میں دیکھتے ہیں
وَحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:One should not combine in marriage a woman with her father's sister, or her mother's sister
ہشام نے ہمیں یحییٰ سے حدیث بیان کی کہ انہوں ( یحییٰ ) نے ان ( ہشام ) کی طرف ابوسلمہ سے ( اپنی ) روایت کردہ حدیث لکھ کر بھیجی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ.
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters
شیبان نے یحییٰ سے روایت کی ، کہا : مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا وَلاَ تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:A man must not make proposal of marriage to a woman when his brother has done so already. And he must not offer a price for a thing for which his brother had already offered a price; and a woman must not be combined in marriage with her father's sister, nor with her mother's sister, and a woman must not ask to have her sister divorced in order to deprive her of what belongs to her, but she must marry, because she will have what Allah has decreed for her
ہشام نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر ( اپنے ) نکاح کا پیغام نہ دے ، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے ، اور نہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کی پلیٹ کو ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ اسے ( پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ کیے بغیر ) نکاح کر لینا چاہئے ، بات یہی ہے کہ جو اللہ نے اس کے لیے لکھا ہوا ہے وہی اس کا ہے
وَحَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي، هِنْدٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا أَوْ أَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَازِقُهَا .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the combining of a woman in marriage with her father's sister, or with her mother's sister, or that a woman should ask for divorce for her sister in order to deprive her of what belongs to her. Allah, the Exalted'and Majestic, is her Sustainer too
داود بن ابی ہند نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت کے ساتھ ، اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ( نکاح میں ) ہوتے ہوئے ، نکاح کیا جائے اور اس سے کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کی پلیٹ میں ہے ، وہ ( اسے اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ بلاشبہ اللہ عزوجل ( خود ) اس کو رزق دینے والا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى وَابْنِ نَافِعٍ - قَالُوا أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade to combine a woman and her father's sister, and a woman and her mother's sister
شعبہ نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( ایک مرد کے نکاح میں ) جمع کیا جائے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of Amr b. Dinar
ورقاء نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّفَقَالَ أَبَانٌ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكَحُ وَلاَ يَخْطُبُ " .
Nubaih b. Wahb reported that 'Umar b. Ubaidullah intended to marry Talha b. 'Umar with the daughter of Shaiba b. Jubair; so he sent a messenger to Aban b. Uthman to attend the marriage, and he was at that time the Amir of Hajj. Aban said:I heard 'Uthman b. 'Affan say that Allah's Messenger (ﷺ) had stated: A Muhrim must neither marry himself, nor arrange the marriage of another one, nor should he make the proposal of marriage
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے نُبَیہ بن وہب سے روایت کی کہ عمر بن عبیداللہ ( بن معمر جہنی ) نے ارادہ کیا کہ اپنے بیٹے طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر ( بن عثمان جہنی ) کی بیٹی سے کر دیں ، تو انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ بھی آئیں ، وہ امیر الحج بھی تھے ۔ ابان نے کہا : میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محرم ( احرام باندھنے والا ) نہ ( خود ) نکاح کرے اور نہ اس کا نکاح کرایا جائے اور نہ وہ نکاح کا پیغام بھیجے